Al-Risala · May 2001 · page 14

منزل کا نشانہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۴

منزل کا نشانہ

انگلینڈ اور فرانس کے درمیان ایک سمندری کھاڑی ہے۔ اس کو انگلش چینل کہا جاتا ہے۔ جس مقام پر اس کا پاٹ سب سے کم ہے وہاں وہ ۲۱ میل چوڑی ہے۔ اب اس کے نیچے ایک سرنگ بنائی گئی ہے جو انگلینڈ اور فرانس کے درمیان بذریعہ روڈ سفر کو ممکن بناتی ہے۔ تیراک لوگ ہمیشہ اس کے شوقین رہے ہیں کہ وہ تیر کر انگلش چینل کو پار کریں۔ سب سے پہلے ۱۸۷۵ میں ۷۲ سالہ میتھو ویب (Matthew Webb) نے تقریباً ۲۱ گھنٹہ تیرتے ہوئے اس کو پار کیا تھا۔ اس کے بعد سیکڑوں لوگ بار بار اس کو پار کر چکے ہیں۔ ہر ایک کے ساتھ مختلف قسم کی کہانیاں وابستہ ہیں۔

امریکی خاتون فلارنس شائڈوک (Florence Chadwick) پہلی خاتون ہیں جنھوں نے انگلش چینل کو تیر کر پار کرنے کی کوشش کی۔ پہلی بار وہ ناکام رہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس کو دونوں طرف سے پار کرنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ فرانس کی طرف سے ۱۹۵۰ میں، اور انگلینڈ کی طرف سے ۱۹۵۱ میں۔ پہلی ناکامی کے بعد فلارنس شائڈوک نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اپنی ناکامی کے لئے کوئی عذر پیش نہیں کروں گی۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر میں اپنی منزل کو بخوبی طور پر اپنے سامنے رکھ سکتی تو میں کامیاب ہو جاتی۔ منزل کا تصور آپ کو برابر آگے کے لئے متحرک رکھتا ہے :

I'm not offering excuses, but I think I could have made it if I had been able to see my goal. Goal gives you a vision that keeps you pressing on. یہ صرف تیراکی کی بات نہیں۔ یہی بات زندگی کے تمام معاملات کے لئے درست ہے۔ زندگی کا سفر ایک غیر ہموار سفر ہے۔ جب آدمی کے سامنے ایک واضح مقصد ہو تو وہ ساری ناخوش گواریوں کو انگیز کرتے ہوئے بڑھتا ہی چلا جائے گا۔ اور جو آدمی واضح نشانہ سے محروم ہو وہ کسی بھی مقام پر تھک کر بیٹھ جائے گا، وہ زیادہ آگے تک نہیں جاسکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page