Al-Risala · May 2001 · page 15

یہ قیادت

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۵

یہ قیادت

پانچویں صدی عیسوی میں یونان میں کچھ ایسے سیاسی لیڈر ابھرے جنہوں نے لوگوں کے وقتی اور سطحی جذبات کو بھڑکاکر عوامی مقبولیت حاصل کی۔ ایسے کسی لیڈر کو اس زمانہ میں ڈیمَاگاگ (Demagogue) کہا گیا۔ ان میں سے ایک مشہور نام کلیون(Cleon)کا ہے۔ وہ ایک بلند آواز آدمی تھا۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر اس بات کی خصوصی صلاحیت تھی کہ وہ عوام پسند زبان میں کلام کر سکے۔ اس نے وقت کے نظام حکومت کے خلاف پر جوش تقریریں کر کے عوام کے اندر مقبولیت حاصل کرلی۔ (8/357) موجودہ زمانہ میں ڈیمَاگاگ کا لفظ اس سیاسی لیڈر کے لئے بولا جاتا ہے جو لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مخاطب کرے اور اس طرح ان کے درمیان لیڈری اور مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔ وہ عوامی خواہشات کا نمائندہ بن کر عوام کی بھیڑ اپنے گرد اکٹھا کرلے (111/454-55) ویبسٹر کی ڈکشنری میں ڈیمَاگاگ کی تشریح اس طرح کی گئی ہے۔ ایک شخص جو عوام کے جذبات اور ان کے تعصبات وغیرہ کو بھڑکائے اور اس طرح ان کا لیڈر بن کر اپنے ذاتی مفادات کو پورا کرے : A person who tries to stir up the people by appeals to emotion, prejudice, etc., in order to become a leader and achieve selfish ends. قیادت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قائد وہ ہے جو عوام کے پیچھے چلے۔ جو عوامی جذبات کی ترجمانی کرے۔ دوسرا قائد وہ ہے جو عوام کو خود اپنے پیچھے چلائے، جو اصولوں کی نمائندگی کرنے والا ہو۔ پہلے قسم کے قائد کو موجودہ زمانہ میں ڈیمَاگاگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے قائد کو ہمیشہ زبردست مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔ ایسا قائد عوام کو اپنا وکيل معلوم ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے گرد بہت جلد عوام کی بھیڑ اکٹھا ہو جاتی ہے۔

اس کے برعکس معاملہ دوسری قسم کی قیادت کا ہے۔ ایسا قائد اپنے اعلیٰ ترین اوصاف کے با وجود عوام کے اندر اجنبی بن جاتا ہے۔ اس کے گرد لوگوں کی بھیڑ جمع نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا بلکہ وہ بر تر اصولوں کا ترجمان ہوتا ہے۔ ایسے قائد کو اکثر یہ کام کرنا پڑتا ہے کہ وہ بولنے والوں کو چپ کرائے اور چلنے والوں کو روکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page