یہ قیادت
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۶
اعتراف
امریکی میگزین نیوز ویک (۱۲ مارچ ۱۹۹۰) کے صفحہ ۵۰ پر ایک فرانسیسی خاتون گروٹ (Groult) کی کتاب پر تبصرہ ہے۔ اس میں کتاب کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ فرانس میں تحریک نسواں (Feminism) مایوسی کے دور سے گزر رہی ہے۔ مثلاً کتابوں کے ناشرین نے تحریک نسواں کے متعلق لٹریچر چھاپنا بند کر دیا ہے، کیوں کہ اس کے فروخت میں بہت کمی آگئی ہے۔ Publishers have stopped printing feminist literature because of poor sales. فرانس میں تحریک نسواں کی مشہور خاتون لیڈر بیور (Simone de Beauvoir) چار سال پہلے مر گئیں۔ ان کے بعد کوئی خاتون لیڈر ابھر نہ سکی۔ فرانس کی تحریک نسواں کو زندہ رکھنے کے لئے ایک لیڈر کی تلاش ہے۔ ایک فرانسیسی خاتون نے اس صورت حال پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کی عورتیں ممکن ہے کہ ایک غالب شوہر سے دور بھاگ سکی ہوں گی، مگر آخری چیز جو وہ چاہتی ہیں وہ دوسرا غالب ہے :
They may have escaped from a domineering husband and the last thing they want is another dominator. مرد کو اللہ تعالیٰ نے فعال صفات کے ساتھ پیدا کیا ہے اور عورت کو منفعل صفات کے ساتھ۔ دونوں صنفوں کے لئے فریضۂ حیات کے اعتبار سے یہی فطری تقسیم ہے۔ مغرب میں اس تعلیم کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ مگر آخر کار فطرت غالب آئی۔ انسان کے خود ساختہ نظریات بے حقیقت ہو کر رہ گئے۔
تجربے نے اور علمی تحقیقات نے ثابت کیا کہ اسلام کا نظریہ صحیح تھا اور مغرب کا نظریہ غلط۔ یہ فطرت کی سطح پر خدائی دین کی تصدیق اور غیر خدائی نظاموں کی تردید ہے۔ اس کے بعد انسان کے لئے اس کے سوا کوئی صورت نہیں کہ وہ خدا کے دین کا اعتراف کرتے ہوئے خدا کے آگے سجدہ میں گر پڑے۔