استعداد کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۷
استعداد کا مسئلہ
اردن سے ایک عربی میگزین "الاجنحہ" کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ مارچ ۱۹۹۰ (صفحہ ۵۸) میں ایک عرب خاتون لیما نبیل کا ایک مضمون دیکھا۔ اس کا عنوان تھا: غرناطہ الفردوس المفقود۔ (غرناطہ، فردوس گمشدہ)
موصوفہ سیاح کے طور پر غرناطہ گئیں۔ وہاں انہوں نے عرب عہد کے آثار کو دیکھا۔ وہ لکھتی ہیں کہ غرناطہ میں میں نے عرب تاریخ کو اپنے سامنے پایا اور اپنے ماضی کی عظمت کا مشاہدہ کیا۔ ان چیزوں کو دیکھ کر وہ رو پڑیں ۔ وہ وہاں کے ایک ایک پتھر سے پوچھتی رہیں کہ یہاں عرب کی عظمت تھی اور یہیں سے پانچ سو سال پہلے عرب کی ذلت شروع ہوئی (ہنا کان المجد العربى وهنا ايضا بدأ أ الذل العربی قبل خمسمائة عام)۔
وہ جذباتی انداز میں لکھتی ہیں کہ عربوں نے یہاں اپنے قلعوں اور محلوں اور مسجدوں کو چھوڑ دیا “ وہ اس شہر سے عورتوں کی طرح روتے ہوئے نکلے۔ وہ مردوں کی طرح اس کی حفاظت نہ کر سکے۔ (تركوا قلاعهم و قصورهم و مساجدهم . خرجوا من هذه المدينة يبكون مثل النساء. ملكا لم يحافظوا عليه مثل الرجال. وخرجت من غرناطة اطأطئ راسي و اسأل نفسی . الی متی سيستمر هذا الليل العربي. وماذا سيكتب التاريخ هنا) عرب خاتون نے اپنے اس تاثراتی جملہ میں غرناطہ کے آخری سلطان کی ماں کے قول کو دہرایا ہے۔ مگر یہ سادہ معنوں میں مرد اور عورت کا مسئلہ نہیں۔ یہ قومی استعداد کا مسئلہ ہے۔ ۱۷۹۹ میں ٹیپو مرد کی جنگ لڑے مگر وہ ہار گئے۔ ۱۹۷۱ میں اندرا گاندھی ایک عورت تھی مگر وہ پاکستان کے مقابلہ میں جیت گئی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مرد اور عورت کا معاملہ نہیں۔ بلکہ قومی استعداد اور حالات کا معاملہ ہے۔ اگر حالات موافقت نہ کر رہے ہوں تو کوئی شخص خواہ کتنی ہی زیادہ بہادری کے ساتھ لڑے، وہ مقابلہ میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔