Al-Risala · May 2001 · page 18

نقصان کی تلافی

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۸

نقصان کی تلافی

ریاض سے ایک عربی ہفت روزہ "الدعوۃ" کے نام سے نکلتا ہے۔ یہ غالباً مسلم دنیا کا سب سے زیادہ کثیر الاشاعت میگزین ہے۔ اس کے شمارہ ۱۲ ستمبر ۱۹۸۸ میں ایک مضمون چھپا۔ اس کا عنوان تھا: اجيالنا المسلمة فى الغرب هل نتركها للضياع یعنی مغربی ملکوں میں ہماری مسلم نسلیں، کیا ہم ان کو لٹ کر ضائع ہونے کے لئے چھوڑ دیں۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت مغربی دنیا میں تقریباً دس ملین مسلمان آباد ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو روزگار کے لئے یا اور کسی مقصد سے وہاں جا کر مقیم ہو گئے ہیں۔ مضمون نگار (ڈاکٹر عبدالقادر طاش) نے ان مسلمانوں کے متعلق لکھا تھا کہ وہ مغرب میں ہمارے سفیر ہیں (ھم سفر او نا فی الغرب) میں سمجھتا ہوں کہ یہ صحیح ترین لقب ہے جو مغرب میں مقیم مسلمانوں کو دیا جا سکتا ہے۔ بلاشبہ یہ لوگ امکانی طور پر ہمارے سفیر ہیں۔ وہاں وہ ہماری نمائندگی کرنے کی بہترین پوزیشن میں ہیں۔ یہ دس ملین مہاجر مسلمان جو مغربی ملکوں میں جا کر آباد ہوئے ہیں، ان کی اکثریت تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل ہے۔ اس اعتبار سے وہ سادہ معنوں میں صرف مہاجر نہیں ہیں۔ بلکہ وہ مسلم ملت کا بہترین حصہ ہیں۔ یہ لوگ اسلام کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ انہیں اپنی اس حیثیت کا شعور حاصل ہو جائے۔ اور وہ اس عظیم کردار کو ادا کرنے کے لئے مستعد ہو جائیں جو حالات نے ان کے لئے مقدر کیا ہے۔

دس ملین مسلمانوں کا مغربی ملکوں میں جا کر بسنا کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ گویا اس تاریخ کا نئی صورت میں اعادہ ہے جو اسلام کے دور اول میں پیش آئی تھی۔ دور اول کے مسلمان بہت بڑی تعداد میں تاجر کے روپ میں غیر مسلم ملکوں میں داخل ہوئے ظاہری طور پر ان کا یہ داخلہ تجارت کے لیے تھا مگر غیر مسلم معاشرہ میں ان کا وجود اپنے آپ اسلام کی تبلیغ کا ذریعہ بن گیا۔ ٹھیک اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلمان اگرچہ بظاہر اقتصادی اغراض کے تحت مغربی ملکوں میں گئے ہیں مگر اس طرح غیر مسلم سماج میں ان کی موجودگی دوبارہ اسلام کی اشاعت کا سبب بن سکتی ہے، بشرطیکہ ان کے اندر اسلامی دعوت کی اسپرٹ پیدا ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page