مذہبی احترام
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۹
مذہبی احترام
دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب ہیں۔ چھوٹے مذہبوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان اتحاد کی فضا کس طرح پیدا کی جائے۔ کوئی اگر یہ کہے کہ تمام مذاہب کا خاتمہ کر دیا جائے تو ایسا ہو نا سرے سے ممکن ہی نہیں۔ مذہب کا احساس خود انسانی فطرت میں پیوست ہے، اور جو چیز خود انسانی فطرت میں اپنی جڑیں رکھتی ہو اس کو کسی بھی حال میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مذہب ہم آہنگی کا دوسرا فارمولا یہ بتایا جاتا ہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ مگر یہ ایک غیر حقیقی فارمولا ہے۔ کیوں کہ سچائی ہمیشہ ایک ہوتی ہے، سچائی کئی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے یہ فارمولا بھی قابل عمل نہیں۔ مذہب کوئی رسمی چیز نہیں ہے، مذہب سچائی کا نمائندہ ہے۔ جب ایک شخص یہ کہتا ہے کہ میں فلاں مذہب کو مانتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے سچائی کے بارے میں اپنی تلاش کا جواب پالیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میں یقینی سچائی پر کھڑا ہوں ہوں۔ ایسی حالت میں تمام مذاہب کی سچائی کا نظریہ خود مذہب کی اصل حقیقت کی نفی ہے۔ وہ انسان سے اس یقین کو چھین لینے کے ہم معنی ہے جس یقین کے اوپر وہ دنیا کے کارزار میں پر اعتماد طور پر کھڑا ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب کے معاملہ میں بھی وہی فارمولا قابل عمل ہے جو دوسرے معاملات میں بالفعل طور پر رائج ہے۔ یعنی ایک اصول کو بر حق مانتے ہوئے دوسرے اصولوں کا احترام کرنا۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہر آدمی کو یہ اختیار دیا جائے کہ اپنے علم کے مطابق وہ جس مذہب کو بر حق سمجھے اس کو اپنا مذہب بنائے۔ وہ اس کی سچائی پر یقین کرتے ہوئے اس کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ اسی کے ساتھ ہر آدمی کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ دوسرے مذہبوں کا پورا احترام کرے۔ وہ دوسرے مذہبوں کو کسی تفریق کے بغیر یکساں طور پر عزت کا مقام دے۔
حقیقت یہ ہے کہ تمام مذاہب کا باہمی اعتراف (mutual recognition) مذہبی اتحاد کا قابل عمل فارمولا نہیں۔ مذہبی اتحاد کا واحد قابل عمل فارمولا باہمی احترام (mutual respect) ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ایک شخص ایک خاتون کو دل سے اپنی ماں سمجھتا ہے، اسی کے ساتھ وہ دوسری تمام خواتین کا پورا احترام کرتا ہے، بغیر اس کے کہ اس نے یہ اعلان کیا ہو کہ دوسری تمام خواتین بھی میری حقیقی مائیں ہیں۔