ایمان بالغیب
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۰
ایمان بالغیب
ایمان کی ایک صورت یہ تھی کہ خدا ہمارے سامنے عیاناً موجود ہوتا۔ فرشتے ادھر سے ادھر چلتے ہوئے نظر آتے۔ جنت اور جہنم کے مقامات کو دیکھنا اسی طرح ممکن ہوتا جس طرح کوئی شخص دنیا کے شہروں میں داخل ہو کر اس کو اپنی کھلی ہوئی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو یقیناً دنیا میں کوئی انکار کرنے والا نہ ہوتا۔ مگر اس کے بعد وہ ربانی شخصیت نہ بنتی جس کو آدمی کے اندر بنانا مقصود ہے۔ لوگ خدائی حقیقتوں کو بس دیکھی ہوئی حقیقت کے طور پر جان لیتے، مگر وہ اس کو خود دریافت کردہ حقیقت کے طور پر نہ پاتے۔ جب کہ خود دریافت کردہ حقیقت کہیں زیادہ بڑی اور گہری ہے، اور وہی مومن سے مطلوب ہے۔
دیکھی ہوئی حقیقت کو جاننا آدمی کے وجود کو زیادہ گہرائی کے ساتھ متاثر نہیں کرتا۔ وہ اوپری علم بن کر رہ جاتا ہے۔ مگر جب آدمی ایک چیز کی تلاش میں سرگرداں ہوتا ہے، وہ اس کو جاننے کی کوشش میں اپنے دل و دماغ کی تمام قوتوں کو لگاتا ہے، اس کے بعد جب وہ چیز اسے ملتی ہے تو وہ اس کی پوری ہستی کو جگادیتی ہے۔ وہ اس کی محبوب ترین چیز بن جاتی ہے۔ جو شخص مومن بالغیب ہو، وہ دنیا میں اسی اعلیٰ ترین لیاقت کا ثبوت دیتا ہے۔ وہ ایسا شخص تھا جو غیر متعلق باتوں میں نہیں الجھا۔ اس نے حقیقت کا اعتراف کیا، اس نے جبر کے بغیر خود اپنے اختیار سے ایک امر واقعہ کو تسلیم کیا۔
نرم زمین پر پانی برستا ہے تو بوند بوند اس کے اندر جذب ہوتی چلی جاتی ہے۔ یہی فرق پہلے شخص اور دوسرے شخص کے درمیان ہے۔ مومن کے لئے ہدایت ملنا گویا نرم زمین پر خدا کا میٹھا برسنا ہے، اور غیر مومن تک ہدایت کی آواز پہنچنا ایسا ہے جیسے سخت پتھر پر پانی ڈالنا۔