ذمہ داری پر نظر
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱
ذمہ داری پر نظر
خلافت فاروقی کے زمانہ میں خالد بن ولید کا شامی افواج کی سپہ سالاری سے ہٹایا جانا اور ان کی جگہ ابو عبیدہ بن الجراح کو سپہ سالار مقرر کرنا، اسلامی تاریخ کا مشہور واقعہ ہے۔ خلیفہ ثانی کا یہ حکم پہنچا تو خالد بن ولید کی قیادت میں رومیوں سے جنگ ہو رہی تھی اور ابو عبیدہ بن الجراح ان کی ماتحتی میں لڑ رہے تھے۔ طویل جنگ کے بعد صاف ظاہر ہو چکا تھا کہ عنقریب مسلمانوں کی فتح ہونے والی ہے : فاخفى ابو عبيدة الخبر وصار في مكانه خلف خالد حتى ظهرت مقدمات النصر. وقد سئل عن عدم اخذه بلواء القيادة على الفور فقال: ماسلطان الدنيا اريد و ما للدنيا اعمل. پس ابو عبیدہ نے خبر کو چھپایا اور خالد کی ماتحتی میں بدستور لڑتے رہے۔ یہاں تک کہ مقدمات فتح ظاہر ہو گئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ قیادت کا جھنڈا آپ نے فوراً کیوں نہ لے لیا تو انھوں نے جواب دیا: دنیا کی بڑائی میں نہیں چاہتا اور نہ دنیا کے لئے عمل کرتا ہوں۔
یہ تاریخ کا وہ واقعہ ہے جب کہ ایک جنرل ایک ملتے ہوئے فوجی کریڈٹ کو بالقصد چھوڑ دے اور اسے دوسرے کے حصہ میں جانے دے۔ ایسا اس لئے ہوا کہ ابو عبیدہ کو دنیا میں اپنی عزت و شہرت کے مقابلہ میں اللہ تعالی کے سامنے سر فروئی کا زیادہ خیال تھا۔ اُنھیں دکھائی دے رہا تھا کہ دنیا کے لحاظ سے کامیابی یہ ہے کہ خبر کا فوراً اعلان کیا جائے۔ اس کے برعکس آخرت کے لحاظ سے کامیابی یہ ہے کہ خبر کو چھپایا جائے۔ ذمہ داری کے خیال نے حقوق کو ان کی نظر میں بے حقیقت بنا دیا۔ وہ افسر کی حیثیت میں ہوتے ہوئے ماتحت بن کر لڑتے رہے اور بالقصد اس کو گوارا کر لیا کہ جنگ کی فتح کا سہرا ان کے ایک ماتحت فوجی کو حاصل ہو جائے۔
دوسری طرف اسی واقعہ میں خالد بن ولید کے کردار کو دیکھئے ۔ یرموک کی فتح کے بعد جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ نہ صرف اس عظیم جنگ بلکہ پچھلے بے شمار معر کوں کا فاتح معزول کر دیا گیا ہے، تو ان کے اندر سخت بے چینی پیدا ہو گئی۔ بہت سے فوجی اور غیر فوجی ان کے گرد جمع ہو گئے۔ انھوں نے