Al-Risala · May 2001 · page 22

ذمہ داری پر نظر

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲

ہو گئے۔ انہوں نے حضرت خالد کی بہادری اور ان کی اسلامی خدمات کے بارے میں پرجوش تقریریں کیں اور ان کی معزولی پر اپنی زبردست ناراضگی کا اظہار کیا۔ ان کو ابھارا کہ وہ خلیفہ کا حکم ماننے سے انکار کر دیں اور وعدہ کیا کہ ہم سب لوگ آپ کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہیں۔ (يحرضونه على عصيان امر الخليفة ويعدونه بانهم سيكونون معه) مگر خالد بن ولید نے اس قسم کے مشورہ کو ماننے سے قطعا انکار کر دیا۔ وہ بخوشی اس پر راضی ہوگئے کہ اپنے ایک جونیر افسر عبیدہ بن الجراح کو سر دار مان لیں اور ان کی ماتحتی میں ایک معمولی فوجی کی حیثیت سے اسلام دشمن طاقتوں کا مقابلہ کرتے رہیں۔ اس وقت انھوں نے جو جملہ کہا، وہ تاریخ نے ان لفظوں میں محفوظ رکھا ہے : انا لا اقاتل فى سبيل عمر ولكن فى سبيل رب عمر (میں عمر کی راہ میں جنگ نہیں کرتا بلکہ عمر کے رب کی راہ میں جنگ کرتا ہوں)۔

خالد بن ولید کو اس بلند کرداری پر جس چیز نے ابھارا وہ دراصل ایمانی نفسیات تھی جس کی نظر ہمیشہ حقوق کے بجائے ذمہ داریوں پر ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں بظاہر ان کا ایک مسلمہ حق پامال ہورہا تھا، مگر اللہ کے سامنے جواب دہی کی ذمہ داری ان کے ذہن پر اس قدر چھائی ہوئی تھی کہ حق کی ظاہری پامالی انھیں بھول گئی اور ذمہ داری کے احساس کے سوا کوئی چیز انھیں یاد نہ رہی۔ جب آدمی کا یہ حال ہو کہ حقوق کے مقابلہ میں اس کی نظر ذمہ داریوں پر ہو تو اسی طرح ہر مسئلہ میں وہ اپنی ذات کو الگ کر کے معاملہ کرتا ہے۔ وہ ایسی بلند سطح پر پہنچ جاتا ہے جہاں ذاتی وقار، فوری مصالح، گر وہی تحفظات سب بے حقیقت ہو جاتے ہیں۔ صداقت کے سامنے آتے ہی وہ اس طرح لپک پڑتا ہے جیسے اس کے اور صداقت کے درمیان کوئی روک ہی نہ تھا۔

حقوق کے مقابلہ میں ذمہ داریوں پر نظر ہونا، یہی تمام اعلیٰ اخلاقیات کی جڑ ہے۔ یہ چیز آدمی کے اندر پیدا ہو جائے تو گویا اس کے اندر سارے اخلاقی اوصاف پیدا ہو گئے۔ انفرادی معاملہ ہو یا اجتماعی، ہر جگہ وہ کھر اثابت ہوتا ہے، ہر امتحان میں وہ پورا اترتا ہے، ہر کٹھنائی اس کی شخصیت کو نیا جلا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ اس کی شخصیت اندرونی تضاد سے خالی ہوتی ہے، اس لئے خارجی دنیا میں بھی اس سے کسی تضاد کا ظہور نہیں ہوتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page