Al-Risala · May 2001 · page 23

حدیث قدسی

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳

حدیث قدسی

صحیح البخاری (کتاب المرضی) میں ایک حدیث قدسی اس طرح آئی ہے: اذا ابتلیت عبدی بحبیبته فصبر عوضته منهما الجنة، يريد عينيه (فتح الباری ۱۲۱/۱۰) یعنی الله تعالی نے فرمایا کہ جب میں اپنے کسی بندہ کو اس کی دو محبوب آنکھوں سے آزماؤں اور وہ اس پر صبر کرے تو میں ان دونوں کے بدلے اسے جنت دے دیتا ہوں۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آنکھ سے محرومی اور جنت کے حصول میں کوئی لازمی رشتہ ہے۔ آنکھ سے محرومی بذات خود جنت میں داخلہ کا سبب نہیں بن جاتی۔ اصل یہ ہے کہ اس محرومی پر سچا صبر کرنے والے کے اندر وہ صفات پیدا ہو جاتی ہیں جو اس کو جنت میں داخلہ کا مستحق بنا دیں۔ ایک عالم کا واقعہ ہے۔ وہ دینی مطالعہ میں مشغول رہتے تھے اور کتابیں لکھ کر دین کی خدمت انجام دے رہے تھے۔ مگر ادھیٹر عمر کو پہنچ کر ان کی آنکھیں جاتی رہیں۔ یہ ان کے لئے انتہائی سخت حادثہ تھا۔ مگر انھوں نے اس پر کامل صبر کر لیا۔ اس صبر کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کا ذہن مایوسی اور جھنجھلاہٹ کے رخ پر چلنے کے بجائے مثبت رخ پر سوچنے میں مشغول ہو گیا۔ آخر کار ان کی سمجھ میں ایک تدبیر آئی جس کے ذریعہ سے وہ اپنے آپ کو دوبارہ کار آمد بنا سکیں۔ انھوں نے اپنی کوششوں کو تحریر کے بجائے تقریر کی طرف موڑ دیا۔ ان کے حافظہ میں معلومات کا وسیع ذخیرہ موجود تھا۔ یہ معلومات اب نئے انداز سے تقریر کی صورت میں ظاہر ہونے لگیں۔ بہت جلد وہ ایک کامیاب مقرر کی حیثیت سے عوام و خواص میں مقبول ہو گئے۔ ان کی با چشم تحریروں میں اگر معلومات دین کی خصوصیت ہوتی تھی، تو ان کی بے چشم تقریروں میں معلومات کے ساتھ پر سوز آواز کا اضافہ ہو گیا۔ اس طرح آنکھ کے حادثہ نے ان کے جنتی کردار کو بڑھا کر ان کے استحقاق جنت میں مزید اضافہ کر دیا۔ خدا کی نظر میں وہ پہلے سے زیادہ رحمت خداوندی کے مستحق قرار پائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page