طرزِ فکر کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴
طرزِ فکر کا مسئلہ
زمین پر جو لوگ چل پھر رہے ہیں ان کو قرآن میں دو قسموں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک وہ جن کی حیثیت مردہ انسان کی ہے۔ اور دوسرے وہ جن کو زندہ انسان کہا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ کیا وہ شخص جو مردہ تھا، پھر ہم نے اس کو زندگی دی اور ہم نے اس کو ایک روشنی دی کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا ہے، وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے، وہ اس سے نکلنے والا نہیں۔ (الانعام ۱۲۳)
اس سے معلوم ہوا کہ ایک انسان وہ ہے جس کو ہدایت کی روشنی ملی ہوئی ہے۔ اس روشنی کی بنا پر اس کو صحیح اور غلط دونوں بالکل کھلے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ ہر معاملہ میں صحیح کو لیتا ہے اور غلط کو چھوڑ دیتا ہے۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کو ہدایت کی روشنی حاصل نہیں۔ وہ نہ صحیح کو دیکھ پاتا ہے اور نہ غلط کو۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ زندگی کی راہوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسی حال میں مر کر مزید شدید تر انجام کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے۔ (الاسراء ۷۲)
جن لوگوں کا شاکلہ بگڑا ہوا ہو، قرآن کی رہنمائی ان کے ذہن کا جزء نہیں بنے گی۔ قرآن کسی مسئلہ سے نمٹنے کے لئے صبر و اعراض کا طریقہ بتائے گا مگر ایسے لوگوں کو وہ بزدلی دکھائی دے گا اور اس بنا پر وہ اس کو چھوڑ دیں گے۔ قرآن و سنت کبھی پیچھے ہٹنے کی رہنمائی دیں گے۔ مگر ایسے لوگ اس کو اختیار کرنے کی طرف راغب نہ ہوں گے کیوں کہ اس قسم کا حل انہیں اپنے وقار کے خلاف نظر آئے گا۔ کہیں قرآن کی تعلیم یہ ہوگی کہ تم دشمن کے ساتھ اچھا سلوک کرو، اس کے ساتھ خیر خواہی سے پیش آؤ مگر وہ اس کو اختیار نہ کریں گے کیوں کہ ان کا نفرت و انتقام کا ذہن اس پر رکاوٹ بن جائے گا۔
قرآن کی ایک تعلیم سامنے آئے گی مگر ایسے لوگوں کا بگڑا ہوا شاکلہ واقعات کو قرآنی نظر سے نہ دیکھ سکے گا اس لئے وہ واقعات کا غلط تجزیہ کریں گے۔ اس بنا پر وہ قرآن کی تعلیم کی طرف راغب نہ ہو سکیں گے۔