Al-Risala · May 2001 · page 25

ذکر اللہ

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵

ذکر اللہ

قرآن میں ہے کہ زمین و آسمان میں خدا کی جو تخلیقی نشانیاں ہیں ان کو دیکھنا اہل ایمان کے لئے خدا کی یاد (ذکر) کا وسیلہ ہے (آل عمران)۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فضا میں ایک چڑیا اڑتی ہوئی دیکھتے تو اس سے بھی لوگوں کو خدا کی یاد دلاتے۔ دوسری طرف قرآن میں ہے کہ حضرت یونس جب مچھلی کے پیٹ میں تھے، جب وہ زمین و آسمان کی آیات (نشانیوں) کو براہ راست طور پر دیکھ نہیں سکتے تھے، انھوں نے اس وقت اللہ کی تسبیح کی اور اس کا ذکر کیا (الصافات ۱۴۳) یاد ہمیشہ کسی واسطہ کے ذریعہ ہوتی ہے۔ مثلاً کبھی قطب مینار کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی یاد آتی ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ”قطب مینار“ کا لفظ اپنے ذہن میں دہراتا ہے اور اس سے قطب مینار کے صانع کی یاد اس کے ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے۔

کچھ ایسا ہی معاملہ خدائی یاد (ذکر اللہ) کا ہے۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی کائنات میں پھیلی ہوئی باکمال کاریگری کو دیکھتا ہے۔ یہ باکمال کاریگرنی اس کو خالق کی یاد دلاتی ہے۔ وہ اللہ کی یاد میں غرق ہو جاتا ہے۔

کبھی انسان پر وہ لمحہ آتا ہے جب کہ کائنات کی محسوس نشانیاں اسے دکھائی نہیں دیتیں۔ مثلاً وہ جیل کے کمرہ میں بند کر دیا جائے یا وہ آنکھوں سے معذور ہو گیا ہو۔ اس دوسری حالت میں وہ الفاظ کے واسطہ سے اپنا رابطہ خدا سے قائم کرتا ہے۔ وہ خدا کا نام لے کر خدا کو یاد کرنے لگتا ہے۔ آدمی خلائی حالت میں کسی چیز کا تصور قائم نہیں کر سکتا۔ قطب مینار کو یاد کرنے کے لئے یا تو اس کو دیکھنا ہو گا، یا ”قطب مینار“ کا لفظ اپنے ذہن میں لانا ہو گا مجرد انداز میں کسی کو یاد کرنا انسان کے لئے ممکن نہیں۔ خدا کے ذکر (یاد) کی ایک صورت یہ ہے کہ اس کی تخلیقات کو دیکھ کر اس کا تصور ذہن میں لایا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ ذکر کے الفاظ کو زبان سے ادا کر کے خدا سے یاد والا تعلق قائم کیا جائے۔ دونوں ہی ذکر کی صورتیں ہیں۔ افضل ذکر کا تعلق اندرونی کیفیت سے ہے نہ کہ ذکر کی ظاہری صورت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page