Al-Risala · May 2001 · page 26

قابلِ عمل فارمولا

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۲۶

قابلِ عمل فارمولا

ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ ہر مذہب اپنی اپنی جگہ پر سچا ہے۔ کوئی مذہب نہ زیادہ سچا ہے اور نہ کوئی مذہب کم سچا۔ انھوں نے کہا کہ یہی واحد مذہب ہی نظریہ ہے جس سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

میں نے کہا کہ یہ نظریہ غیر فطری بھی ہے اور غیر عقلی بھی۔ دنیا کی کسی بھی چیز میں آدمی ایسا نہیں کرتا کہ بیک وقت ہر بات کو یکساں طور پر درست سمجھے۔ مثلاً کوئی بھی انسان نہیں کہتا کہ کہ زمین۔ مرکزی گردش کا نظریہ بھی صحیح اور آفتاب۔ مرکزی گردش کا نظریہ بھی صحیح۔ ہر آدمی ایک نظریہ کو صحیح اور دوسرے کو غلط بتاتا ہے۔ پھر مذہب ہی میں استثنائی طور پر ایسے نا قابلِ فہم نظریہ کو اختیار کرنے کی کیا ضرورت۔

میں نے کہا کہ شہنشاہ اکبر نے حکومت کے زور پر یہ نظریہ چلانا چاہا مگر وہ نہیں چلا۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے ۳۰ سال کے گہرے مطالعہ کے بعد اپنی مشہور کتاب Essential Unity of all Religions لکھی۔ مگر یہ انسائیکلوپیڈیا ئی کتاب بھی اس نظریہ کو قائم نہ کر سکی۔ مہاتما گاندھی نے اپنی قائدانہ مقبولیت سے اس کو رواج دینا چاہا مگر وہ بھی ناکام ہو گئے۔ حتیٰ کہ خود ان کا یہ حال ہوا کہ زندگی بھر وہ رام رحیم ایک ہے کہتے رہے مگر جب ان کو قتل کیا گیا تو ان کی زبان سے آخری الفاظ یہ نکلے ”ہے رام“ نہ کہ ”ہے رام ہے رحیم“۔

اس معاملہ میں زیادہ درست فار مولا وہ ہے جو قرآن میں دیا گیا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : لکم دینکم ولی دین (الکافرون) یعنی تمہارے لئے تمار ادین اور میرے لئے میرا دین۔ اس سلسلہ میں قرآن و حدیث کی دوسری تعلیمات کو ملا کر اس کا ایک فار مولا بنایا جائے تو وہ یہ ہو گا ـــــــــ ایک کی پیروی کرو اور سب کا احترام کرو:

Follow one and respect all

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page