ایک واقعہ دو انجام
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷
لگاتے ہیں۔ کیوں کہ میں نے نہ کبھی ایسا کہا اور نہ کبھی ایسا لکھا، میری کسی بھی تحریر سے اس کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکتا۔
اس معاملہ کی حقیقت کو سمجھنے کے لئے عقلِ عام ’’کامِن سنس‘‘ ہی کافی ہے۔ اس معاملہ میں کامن سنس کو استعمال کر کے ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں ہر گز ایسا نہیں کہہ سکتا۔ جب مسجد اللہ کی ملکیت ہے، وہ کسی انسان کی ملکیت نہیں، ایسی حالت میں اگر میں ایسا کہوں کہ مسلمان بابری مسجد کو ہندوؤں کے حوالہ کردیں تو یہ میرے لئے خود اپنی حیثیت عرفی (reputation) کی نفی کے ہم معنی ہو گا اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میں مسجد کے معاملہ میں شرعی حکم کو نہیں جانتا اور یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کوئی بھی شخص اپنی حیثیت عرفی کی نفی کا تحمل نہیں کر سکتا، پھر میں کیوں کر ایسا کروں گا۔
میں اللہ کے فضل و توفیق سے تقریباً سے پچاس سال سے قرآن وحدیث کی خدمت کر رہا ہوں۔ میرے اس کام کی اہمیت اسی لئے ہے کہ لوگ مجھ کو ایک عالم دین سمجھتے ہیں۔ ایسی حالت میں میں خود اپنے ساتھ دشمنی کروں گا اگر میں مسجد کے بارے میں مذکورہ قسم کا بیان دوں۔ کیوں کہ اس کے بعد لوگوں کی نظر میں میرا عالم دین ہونا مشتبہ ہو جائے گا، اور اسی کے ساتھ میرا پورا دینی مشن بھی۔ اتنے نازک معاملہ میں میں اتنی بڑی نادانی کیسے کر سکتا ہوں۔ بابری مسجد کے معاملہ میں میری رائے اول دن سے اور اب تک ایک ہی رہی ہے۔ اس کی تفصیل الرسالہ کے شماروں میں دیکھی جاسکتی ہے۔ الرسالہ کے یہ مضامین یکجائی طور پر ایک کتاب میں شائع کئے جاچکے ہیں جس کا نام قیادت نامہ ہے۔ تفصیل کے طالب اس کتاب کو دیکھ سکتے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ ۱۹۹۲ء کے حادثہ سے پہلے اور حادثہ کے بعد ہر مرحلہ میں میں ایک ہی بات کہتا رہا ہوں۔ وہ یہ کہ جمہوریت کے ماحول میں جب بھی کوئی نزاعی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو ہمیشہ پر امن دائرہ میں حل کرنا چاہئے۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ ۱۹۹۲ء سے پہلے کچھ خود ساختہ مسلم لیڈر