لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸
مسجد کی تحریک کو سڑک پر لے آئے۔ انہوں نے ایک مقامی مسئلہ کو آل انڈیا مسئلہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے دھمکی کی زبان استعمال کرنا شروع کیا، مثلاً وہ کہتے تھے کہ بابری مسجد کو چھو کر تو دیکھو۔ اسی طرح انہوں نے اعلان کیا کہ سارے ہندوستان کے مسلمان مارچ کر کے اجودھیا میں داخل ہو جائیں گے۔ اور یہ کہ اگر بابری مسجد ٹوٹی تو سارا ملک ٹوٹ جائے گا، وغیرہ۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے کہا تھا کہ جلسہ جلوس کی سیاست گرمی زیادہ پیدا کرتی ہے اور روشنی کم۔ یہی میرا کہنا تھا۔ اس معاملہ میں بقیہ علماء اور رہنماؤں سے میرا اختلاف صرف طریقہ کار میں تھا نہ کہ نفس مسئلہ میں۔ جہاں تک مسجد کی شرعی نوعیت کا تعلق ہے اس بارے میں میرا نقطہ نظر عین وہی تھا جو دوسرے حضرات کا رہا ہے۔ البتہ میرا کہنا تھا کہ اس معاملہ کو عدالت یا پر امن گفت و شنید کے دائرہ تک محدود رکھنا چاہئے۔
حالات اب دو اور دو چار کی طرح ثابت کر چکے ہیں کہ جس نقطہ نظر کی حمایت میں نے کی تھی وہی اس معاملہ میں صحیح ترین نقطہ نظر تھا۔ حتیٰ کہ اب تمام اصاغر و اکابر عملاً اسی روش کو اختیار کر چکے ہیں جس کی رہنمائی الرسالہ میں دی گئی تھی۔
لیک بعد از خرابی بسیار
یہاں میں اضافہ کروں گا کہ اگر راقم الحروف کی رائے پر عمومی طور پر عمل کیا جاتا تو یہ یقینی ہے کہ بابری مسجد کا تاریخی ڈھانچہ اپنی جگہ قائم رہتا، وہ کبھی توڑا نہ جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کا انتہائی واقعہ ہمیشہ اشتعال انگیز فضا میں کیا جاتا ہے۔ معتدل فضا میں یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی کسی مسجد پر حملہ کرے اور وہ اس کو توڑ ڈالے۔ اس نقطہ نظر کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ٦ دسمبر ۱۹۹۲ء کے بعد جب حالات اعتدال پر آگئے اور جلسہ جلوس کی سیاست ختم ہو گئی تو اس کے بعد کوئی اور مسجد ڈھائی نہیں گئی۔ حالانکہ جیسا کہ معلوم ہے بابری مسجد کو توڑنے والے لوگ ٦ دسمبر ۱۹۹۲ء سے پہلے یہ اعلان کر رہے تھے کہ ملک میں تین سو ایسی مسجدیں ہیں جن کو توڑ کر ہمیں دوبارہ مندر بنانا ہے۔ یہ ساری سیاست اس طرح ختم ہو گئی جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔