Al-Risala · May 2001 · page 39

لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۳۹

سوال

آپ کے بارے میں یہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ ہندوستان میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کا ذمہ دار آپ مسلمانوں کو قرار دیتے ہیں کہ وہی اس کی ابتدا کرتے ہیں۔ دوسرے طبقہ کے لوگوں کو آپ اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتے۔ کیا یہ صحیح بات ہے، زیادہ تر مسلمانوں کی غلطیوں کی نشاندہی آپ کس لئے کرتے ہیں وضاحت فرمائیں۔ (سید نسیم الدین مجاہد، حیدر آباد) جواب فرقہ وارانہ فساد کے بارے میں میرا نقطہ نظر کیا ہے اس کو سمجھنے کے لئے میری کتاب ’’حل یہاں ہے‘‘ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ خاص طور پر اس کے ’’آغاز کلام‘‘ کو۔ یہ کتاب پہلی بار ۱۹۸۵ میں شائع ہوئی۔ یہ میرے اوپر بے بنیاد الزام ہے کہ میں یہ کہتا ہوں کہ مسلمان فساد کرتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک، یہ کہ فساد کا ابتدائی ذمہ دار کون ہے۔ دوسرے یہ کہ فساد کے مسئلہ کو حل کیسے کیا جائے۔ اس موضوع پر جو کچھ میں نے لکھا اس کا تعلق اس مسئلہ کے صرف ایک پہلو سے ہے وہ یہ کہ فرقہ وارانہ فساد کے مسئلہ کا حل کیا ہے۔ یہ ایک الگ سوال ہے کہ فرقہ وارانہ فساد کون شروع کرتا ہے۔ دوسرے لکھنے اور بولنے والے لوگ زیادہ تر اسی پہلے سوال پر لکھتے اور بولتے ہیں جب کہ میرے نزدیک زیادہ اہم بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو اس کے نقصان سے بچایا جائے۔ فساد کس نے شروع کیا۔ یہ ایک خالص نظری نکتہ ہے۔ مگر فساد کیسے روکا جائے یہ ایک عملی سوال ہے اور اس کا براہ راست تعلق مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت سے ہے۔ مجھ کو اصلا اسی نے دلچسپی ہے کہ مسلمانوں کی جان اور ان کے اموال محفوظ ہوں اور وہ اس ملک میں زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکیں۔

اس نقطہ نظر سے جب میں سوچتا ہوں تو اس کا جواب مجھے قرآن میں واضح لفظوں میں ملتا ہے۔ قرآن کا وہ جواب یہ ہے : وإن تصبروا و تتقوا لا يضركم كيدهم شيئاً (آل عمران ۱۲۰) قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کے کید یا سازشی منصوبوں سے بچنے کا یقینی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page