لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰
فارمولا یہ ہے کہ اس کے مقابلہ میں صبر اور تقویٰ کا انداز اختیار کیا جائے۔ واقعات بتاتے ہیں کہ فرقہ وارانہ فساد زیادہ تر جلوس کے سوال پر ہوتا ہے۔ مسلمان اس کی روٹ بدلنے پر اصرار کرتے ہیں۔ ہندو اپنے جلوس کی روٹ بدلنے پر راضی نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے دونوں کے درمیان تکرار ہوتی ہے جو بڑھتے بڑھتے فساد بن جاتی ہے۔ قرآن کی مذکورہ رہنمائی کی روشنی میں دیکھیے تو اس مسئلہ کا حل صبر و اعراض ہے نہ کہ ٹکرائو۔ یعنی مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جلوس کے معاملہ میں نظر انداز کرنے کی پالیسی اختیار کریں۔ جلوس کا مسلم محلہ سے گزرنا صرف ایک وقتی مسئلہ ہوتا ہے۔ جلوس کے دونوں طرف ہمیشہ پولیس موجود ہوتی ہے جو اس بات کی ضمانت ہوتی ہے کہ جلوس کے لوگ محلہ کے اندر داخل نہ ہوں، وہ سڑک سے گزرتے ہوئے آگے چلے جائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا ہر موقع صرف چند منٹ کے صبر و اعراض کا مسئلہ ہوتا ہے۔ اگر مسلمان ایسے موقع پر تھوڑی دیر کے لئے صبر و اعراض کا ثبوت دیں تو انہیں بیک وقت دو فائدے حاصل ہوں گے: ایک صبر کا ثواب جو قرآن کے الفاظ میں بے حساب حد تک ایمان والوں کو ملتا ہے (الزمر ۱۰)۔ دوسرا فائدہ یہ کہ ان کا یہ وقتی اعراض فرقہ وارانہ فساد کے بم کو پھٹنے سے پہلے ہی ڈفیوز کردے گا۔ اور مسلمان جان و مال کے نقصان سے بچ جائیں گے۔ جو لوگ ماہنامہ الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں ان کو معلوم ہے کہ الرسالہ میں بار بار ایسی واقعاتی مثالیں شائع کی جاتی رہی ہیں جب کہ صرف صبر و اعراض کرنے کی وجہ سے فرقہ وارانہ فساد ٹل گیا اور مسلمان جان و مال کے نقصان سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔ اس معاملہ کی مزید تفصیل ہماری کتاب (حل یہاں ہے) میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اب اس مسئلہ کو لیجئے کہ اس معاملہ میں الرسالہ میں جو مضامین آتے ہیں ان میں زیادہ تر مسلمانوں کی کوتاہیوں کا ذکر ہے اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہی قرآن کا اسلوب ہے۔ قرآن میں ایک مستقل معاشرتی اصول یہ بتایا گیا ہے کہ تم پر (دوسروں کی طرف سے) مصیبت بھی آتی ہے وہ صرف تمہارے اپنے عمل کا نتیجہ ہوتی ہے (الشورٰی ۳۰)۔ اسی اصول کی روشنی میں قرآن میں کم از کم دوبار صحابہ کو ان کی داخلی کوتاہیوں کی طرف توجہ دلائی گئی جب کہ