Al-Risala · May 2001 · page 41

لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱

معاملہ بظاہر نہ صرف یکطرفہ تھا بلکہ اغیار کے ظلم وزیادتی کا ثبوت بھی وہاں موجود تھا۔ یہ دونوں حوالے غزوہ احد وحنین سے تعلق رکھتے ہیں جیسا کہ معلوم ہے کہ غزوہ احد سراسر قریش کی ظالمانہ کارروائیوں کی بنا پر پیش آیا تھا۔ ان کی یکطرفہ جارحیت اسی سے ثابت ہے کہ وہ مکہ سے اقدام کر کے مدینہ پہنچے اور یہاں آ کر بلا سبب مسلمانوں پر حملہ آور ہوئے جس کے نتیجہ میں احد کی جنگ پیش آئی۔ اس میں مسلمانوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ احد کے اس واقعہ پر قرآن میں تبصرہ نازل ہوا تو اس میں قریش کے خلاف سخت بیان دینے کے بجائے خود اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی قرآن میں ارشاد ہوا کہ یہ در اصل تمہارا باہمی نزاع (آل عمران ۱۵۲) تھا جس کی بنا پر تم کو احد کے موقع پر جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑا۔

دوسرا واقعہ وہ ہے جس کو اسلام کی تاریخ میں غزوہ حنین کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے غزوہ حنین قبیلہ ہوازن کی یکطرفہ جارحیت کے نتیجہ میں پیش آیا تھا۔ اس موقع پر بھی مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ مگر قرآن میں جب غزوہ حنین پر تبصرہ نازل ہوا تو دوبارہ یہی ہوا کہ جارح قبیلہ کے خلاف بیان دینے کے بجائے خود اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ حنین کے دن تمہارے اندر عجب اور ناز (التوبہ ۲۵) پیدا ہو گیا تھا اور یہی تمہارے لئے نقصان کا سبب بنا۔ یہی قرآنی اسلوب ہے جس کو میں اپنی تحریروں میں اختیار کرتا ہوں۔ اگر فرقہ وارانہ فسادات کے بارے میں یہ کہنا ہو کہ اس کو شروع کرنے والا کون تھا تو میرا جواب بھی وہی ہو گا جو دوسرے مسلم رہنماؤں کا جواب ہوتا ہے۔ مگر جیسا کہ عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملات میں میرے سامنے یہ سوال ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی جان و مال کو کیسے محفوظ کیا جائے اور جب میں اس دوسرے سوال پر غور کرتا ہوں تو میں مجبور ہوتا ہوں کہ قرآن کی روشنی میں بات عرض کروں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا۔ سوال میرے بھائی صاحب نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ آج کل کے مسلمانوں کو کس قسم کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ میں نے ان کو یہ جواب دیا کہ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page