Al-Risala · May 2001 · page 42

لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

ہے کہ مسلمانوں کو حقیقت پسند بنایا جائے مگر وہ میرے جواب سے مطمئن نہیں ہوئے۔ براہ کرم آپ اس کا جواب عنایت فرمائیں اور اس مسئلہ کو واضح کریں۔ (صوفیہ حیدر، بتیا، بہار) جواب آپ نے مذکورہ سوال کا بالکل درست جواب دیا۔ رہنمائی کے سلسلہ میں صرف یہ کافی نہیں کہ آدمی نظری یا تاریخی باتوں کو جانے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ وہ یہ جانے کہ زمانی حالات کیا ہیں اور زمانی حالات کے اعتبار سے لوگوں کو کس قسم کی رہنمائی دینے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلہ میں ایک سبق آموز حوالہ یہ ہے کہ ایک عالم نے ایک بار فتویٰ دیا کہ المسح علی الخفین واجب (خفین پر مسح کرنا واجب ہے) لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اس کو وجوب کا درجہ کیوں دیا، جب کہ یہ ایک رخصت کا معاملہ ہے۔ عالم نے جواب دیا کہ موجودہ زمانہ میں لوگ خفین پر مسح کرنے میں کراہت محسوس کرنے لگے تھے، اس لئے میں نے اس کی اہمیت پر زور دینے کے لئے یہ فتویٰ دیا۔

اسی طرح مسلمانوں کے بارے میں بھی یہ دیکھنا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان کے اندر کیا کمی آگئی ہے کہ ترقی کی دوڑ میں وہ دوسری قوموں سے پیچھے ہوگئے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حقیقت پسندانہ طرز فکر (realistic approach) ان کے اندر تقریباً ختم ہوگیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان عام طور پر جذباتی انداز میں سوچنے لگے ہیں۔ وہ اکثر جذباتی فیصلہ کے تحت اقدام کرتے ہیں۔ حالات کا گہرا تجزیہ اور تعمیری منصوبہ بندی کا مزاج ان میں باقی نہیں رہا۔ یہی ان کے موجودہ مسائل کا اصل سبب ہے۔ ایسی حالت میں موجودہ مسلمانوں کے لئے جس رہنمائی کی ضرورت ہے وہ یقینی طور پر یہی ہے کہ ان کے اس مزاج کی تصحیح کی جائے۔ ان کے اندر سے جذباتیت کا مزاج ختم کیا جائے۔ اس کے بجائے ان کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کیا جائے۔ اس مزاج کا ایک اور تباہ کن نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان عددی اعتبار سے بہت

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page