Al-Risala · May 2001 · page 43

لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳

بڑی طاقت ہیں، مگر اپنی بے اتحادی کی بنا پر وہ صرف ایک کمزور قوم بنے ہوئے ہیں۔ اس بے اتحادی کا واحد سبب یہی جذباتیت ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ معمولی اختلاف پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اختلاف کے وقت اپنا اعتدال کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ اس شخص کے دشمن بن جاتے ہیں جو کوئی ایسی بات کہے جس سے وہ اختلاف رکھتے ہوں۔

فرق اور اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ وہ ہر سماج میں اور ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرق وہ اختلاف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ صحابہ کرام کے زمانہ میں بھی ان کے اندر بہت سے اختلاف تھے۔ موجودہ دنیا میں اتحاد ہمیشہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ لوگوں کے اندر اختلاف کو برداشت کرنے کا مزاج ہو۔ اختلاف کے باوجود متحد ہونے کا نام اتحاد ہے نہ کہ اختلاف کے بغیر متحد ہونے کا، کیوں کہ غیر اختلافی سماج تو دنیا میں کبھی بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ سوال قرآن میں آیا ہے کہ تم صبر کرو جس طرح اولوالعزم انبیاء نے صبر کیا اور ان کے معاملہ میں جلدی نہ کرو۔ (الاحقاف ۳۵) اس کا مطلب کیا ہے، اس کی تفصیل فرمائیں۔ (اسجد نواز صابری، ململ، بہار)

جواب

عزم کا مطلب پختہ ارادہ (determination) ہے۔ یعنی اپنے مقصد پر پوری طرح جے رہنا، کسی بھی چیز کا اثر لے کر اپنے مقصد سے منحرف نہ ہونا۔ اس آیت میں داعی کا کردار بتایا گیا ہے۔ داعی سے جو کردار مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ مدعو کی طرف سے خواہ کتنا ہی زیادہ منفی ردِ عمل کا اظہار ہو، مگر داعی اپنے مثبت رویہ پر قائم رہے۔ مدعو اگر اشتعال دلائے تب بھی داعی مشتعل نہ ہو۔ مدعو اگر قابل نفرت سلوک کرے تب بھی داعی اس کا خیر خواہ بنا رہے۔ مدعو اگر نزاع چھیڑے تب بھی داعی اس سے اعراض کرتے ہوئے لڑائی کی نوبت نہ آنے دے۔ یہی عزیمت ہے اور دعوت کا کام اس عزیمت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page