لیک بعد از خرابی بسیار
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴
ایک خط
برادر محترم جناب یوسف نورانی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۲۸ جنوری ۲۰۰۱ کو ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد یہ خط لکھ رہا ہوں۔ ٹیلی فون پر میں نے جس مسئلہ کا ذکر کیا تھا اس کی مزید تفصیل یہاں درج ہے۔
قدیم مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبی کی حیثیت سے اپنا پیغام پیش کیا تو وہاں کے سرداروں نے آپ کی دعوت کو رد کر دیا۔ وہ لوگوں سے یہ کہتے کہ محمد صرف ایک بشر ہیں، ان کے اور تمہارے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس طرح وہ لوگوں کو شبہہ میں ڈالتے اور ان کو شک میں مبتلا کرتے۔ وہ کہتے کہ اگر یہ پیغمبر ہیں اور اللہ کی طرف سے آئے ہیں تو اللہ نے کیوں نہ ایسا کیا کہ وہ بشر کے بجائے اپنے فرشتہ کو ہمارے پاس بھیج دیتا تا کہ ہمیں اس کو نمائندہ الہی سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ (تفسیر القرطبی ۳۹۴/۶)
ان کے اس اعتراض کے جواب میں قرآن میں کہا گیا کہ : اور اگر ہم کسی فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے تو اس کو بھی آدمی بناتے اور ان کو اسی شبہہ میں ڈال دیتے جس میں وہ اب پڑے ہوئے ہیں (الانعام ۹)۔ اس آیت میں ایک اہم سنت الہی کا ذکر کیا گیا ہے۔ وہ قرآن کے الفاظ میں التباس (ambiguity) کا قانون ہے یعنی یہاں ہر چیز کے ساتھ ایک شبہہ کا عنصر (element of doubt) لگا ہوا ہے، حتی کہ خود قرآن کے ساتھ بھی۔ اس دنیا میں یہی آدمی کا امتحان ہے کہ وہ شبہہ کے اس پردہ کو پھاڑے، وہ اس پردہ کو ہٹا کر حقیقت کا یقینی مشاہدہ کر سکے۔ اسی امتحان پر آخرت میں آدمی کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار ہے۔ جو شخص موجودہ دنیا میں شبہہ کا پردہ پھاڑنے میں کامیاب ہوا وہ آخرت میں بھی کامیاب ہے۔ اور جو شخص یہاں شبہہ کا پردہ پھاڑنے میں ناکام رہا، وہ آخرت میں بھی ناکام رہے گا۔