Al-Risala · May 2001 · page 45

لیک بعد از خرابی بسیار

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵

مثال کے طور پر موجودہ قرآن اپنی نزولی ترتیب پر نہیں ہے بلکہ وہ توقیفی ترتیب پر ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس مسئلہ میں الجھ جائے تو وہ قرآن پڑھنے کے باوجود قرآن کی ہدایت سے محروم رہے گا۔ اسی طرح دنیا میں مصیبت (suffering) کا مسئلہ ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس مسئلہ میں الجھ جائے تو وہ خدا کی حکیمانہ تخلیق کے بارے میں مشتبہ ہو جائے گا، وہ ذہنی انتشار (confusion) میں مبتلا ہو کر یقین کی نعمت سے محروم رہے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اس مسئلہ کا معین (specific) جواب ڈھونڈنے لگے کہ مرنے کے بعد عورت یا مرد کے اوپر کیا احوال پیش آتے ہیں تو وہ معین صورت میں اپنے سوال کا جواب تو نہ پا سکے گا، البتہ وہ خود ایک کذ ہنی مریض بن جائے گا جس کا علاج اس دنیا میں ممکن ہی نہ ہو، وغیرہ۔

نظام فطرت میں التباس کا یہ قانون بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں سچائی کی پہچان کے لئے وہ طریقہ رکھا ہے جس کو ایجوکیشن کی اصطلاح میں تلاش کا طریقہ (discovery method) کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تمام چیزیں کسی نہ کسی اعتبار سے مشتبہ حالت میں ہیں۔ اشتباہ (doubt) کی یہ حالت قیامت سے پہلے ہرگز ختم ہونے والی نہیں۔ آدمی کے لیے واحد انتخاب یہ ہے کہ وہ عقلِ سلیم سے کام لے کر اشتباہ کے پردہ کو پھاڑے، وہ شبہہ کے باوجود یقین تک پہنچے۔ وہ اجمال میں صراحت کو پڑھ لے۔

اس معاملہ میں کامیاب ہونے کے لیے قرآن و حدیث میں چند اصول بتائے گئے ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ آدمی اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کرے کہ اس کو علم قلیل (بنی اسرائیل ۸۵) دیا گیا ہے، اس کو علم کثیر عطا نہیں ہوا۔ اسی طرح حدیث میں اس کا ایک اصول ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: وسكت عن اشياء من غير نسیان فلا تبحثوا عنها (مشکوٰة ار/ ۶۹) یعنی اللہ نے کچھ چیزوں کے بارے میں سکوت اختیار کیا ہے بغیر اس کے کہ وہ اس کو بھولا ہو، پس تم ان چیزوں کے بارے میں بحث نہ کرو۔ اسی لئے ایک عالم نے کہا ہے: ابهموا ما ابهمه الله (اس چیز کو مبہم رکھو جس کو اللہ نے مبہم رکھا ہے)۔ یہ موجودہ دنیا میں گویا مطالعہ کی کلید ہے۔ خواہ علم دین کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page