Al-Risala · May 2001 · page 46

دعا گو وحید الدین

الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶

معاملہ ہو یا سیکولر علوم کا، دونوں ہی معاملہ میں یہ کلیدی اصول یکساں طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ فلسفہ پچھلے پانچ ہزار سال سے حقیقت کائنات کا مطالعہ کرتا رہا ہے مگر اس کو مکمل طور پر ناکامی ہوئی۔ اس کے برعکس سائنس نے تین سو سال کے عرصے میں ہزاروں کامیابیاں حاصل کر لیں۔ اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ فلسفہ کیسے (how) اور کیوں (why) میں فرق نہ کر سکا۔ اس نے دونوں کو یکساں طور پر جاننا چاہا جب کہ ان میں سے ایک کو جاننا انسان کے لئے ممکن ہے اور دوسرے کو جاننا انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اس کے برعکس سائنس نے یہ کیا کہ ’’کیوں ہے‘‘ کے سوال کی بابت اجمالی علم پر قناعت کرتے ہوئے اس نے ’’کیسے ہے‘‘ کے سوال پر اپنی ساری توجہ لگادی۔ اس کا نتیجہ شاندار کامیابی کی صورت میں نکلا۔ اسی طریق مطالعہ (methodology) کو ہمیں دین کو سمجھنے کے لئے بھی استعمال کرنا ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، قرآن کی محکم آیات کو تو ہمیں تفصیل کے ساتھ جاننے کی کوشش کرنا ہے۔ مگر قرآن کی وہ باتیں جو متشابہات سے تعلق رکھتی ہیں، ان میں مختصر اور مبہم علم پر قناعت کرنا ہے (آل عمران ۷)۔ نفسیاتی اعتبار سے کسی آدمی کی سب سے زیادہ اہم صفت یہ سمجھی جاتی ہے کہ اس کے اندر صحتِ فکر (sound thinking) پائی جائے۔ صحت فکر کی ایک خاص پہچان یہ ہے کہ آدمی یہ جانے کہ کس بات کو اسے اپنی سوچ کا موضوع بنانا ہے اور وہ کون سی بات ہے جس میں اسے اپنے ذہن کو زیادہ مصروف کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہی حکمت کسی آدمی کو اعلیٰ فکر عطا کرتی ہے جو اس دنیا میں بلا شبہ سب سے بڑی نعمت ہے۔

اس دنیا میں حق کی سچی معرفت صرف اس کے لئے ممکن ہے جو مطالعہ کی اس تقسیم پر راضی ہو، جو شخص اس تقسیم پر اپنے آپ کو راضی نہ کر سکے، اس کے لئے موجودہ دنیا میں ذہنی انتشار کے سوا اور کچھ نہیں۔ ذہنی انتشار بلا شبہ اتنی بڑی محرومی ہے کہ اگر اس کو ذہنی خود کشی کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔

دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of May 2001 All issues

Printed page