The Role of Islam in the Emerging Scenario.
الرسالہ، مئی ۲۰۰۱، صفحہ ۴۷
انگریزی کی نئی کتاب ''اسلام ری ڈسکورڈ" (Islam Rediscovered) چھپ کر تیار ہو گئی ہے۔ دو تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں پچیس ابواب ہیں۔ یہ کتاب سرچ فار ٹرو (Search for Truth) کے عنوان سے شروع ہوتی ہے۔ اور ترتیب وار مختلف ابو سے گزرتی ہوئی آخری باب پر ختم ہوتی ہے جس کا عنوان ہے حق کی دریافت کی ایک مثال A Case of Discovery یہ پوری کتاب جدید سائنٹفک اسلوب پر لکھی گئی ہے۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ تک اسلام پیغام پہنچانے کے لئے یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے، انشاء اللہ دور جدید کے انسان تک مؤثر انداز میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے یہ کتاب بے حد مفید ہوگی۔ ۲۸ جنوری ۲۰۰۱ کو گاندھی سمرتی اور درشن سمتی International Centre of (Gandhian Studies and Research میں تین روزہ سیمنار ہوا۔ اس کی دعوت ۲۸ جنوری ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ اور اسلام پر ایک تقریر کی۔ اس تقریر کا عنوان یہ تھا:
The Role of Islam in the Emerging Scenario.
تین گھنٹہ کا یہ پروگرام صرف اسلام کے موضوع پر تھا۔ تقریر کے بعد سوال و جواب سلسلہ دیر تک جاری رہا۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ اسلام دین فطرت ہے۔ چنانچہ جو لو اسلام کو اختیار کرتے ہیں ان کا احساس یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے خود اپنی فطرت کے دین اختیار کر لیا ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہم تو اسلام کو مسلمانوں کی تصویر میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بتائی ہوئی تصویر سے مختلف ہے۔ اس کے جواب میں کہا گیا کہ یہ مطالعہ کا طریقہ نہیں۔ اگر آپ ڈیما کریسی کا علمی مطالعہ کریں تو کیا آپ ایسا کریں گے کہ بہار لال پور شاد اور را بڑی دیوی کے نمونہ کو لے کر ڈیموکریسی کے بارے میں رائے قائم کریں۔