Al-Risala · June 2001 · page 21

خشیتِ انسانی کے دور کا خاتمہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۱

خشیتِ انسانی کے دور کا خاتمہ

قرآن کی سورہ نمبر ۵ میں وہ آیت ہے جو پیغمبرِ اسلام ﷺ کے آخری دور میں اتری۔ اس آیت میں ایک اہم تاریخی اعلان کیا گیا۔ وہ اعلان یہ تھا کہ اب اہلِ توحید کے لئے خشیتِ انسانی کا دور ختم ہو گیا۔ اسلام کے بعد توحید کی تاریخ اب خشیتِ خدا وندی کے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: ”آج انکار کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے۔ پس تم ان سے نہ ڈرو، اور تم مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے کامل کر دیا اور تمہارے اوپر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کر لیا“ (المائدۃ ۳)

اصل یہ ہے کہ توحید کی تحریک کا ایک دور اسلام پر ختم ہونا ہے اور اس تحریک کا دوسرا دور اسلام سے شروع ہوتا ہے۔ اسلام سے پہلے جو دور گزرا ہے اس میں مسلسل طور پر توحید کی تحریک خشیتِ انسانی کے مسئلہ سے دوچار رہی۔ قرآن کی سورہ البروج میں اسی قدیم نا موافق دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور سورہ البقرہ میں اسی نا موافق صورت حال سے نجات کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی ہے (البقرۃ ۲۸۶)۔

اسی قدیم نا موافق صورت حال کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے، اور حکم دیا گیا ہے کہ اہل فتنہ سے لڑو تا کہ فتنہ کی حالت ختم ہو جائے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے (الانفال ۳۹)۔ فتنہ کے معنی آزمائش یا روکنے کے ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے کہ فتن فلاناً عن رایہ - ”اس نے فلاں شخص کو اس کی رائے سے روک دیا۔ “ یہاں فتنہ سے مراد وہ غیر فطری حالت ہے جو اللہ کی تخلیقی اسکیم کے خلاف اہل باطل نے دنیا میں قائم کر رکھی تھی۔ اس قدیم دور میں وہ فطری حالت ختم ہو گئی تھی جو اللہ کو اپنی اس دنیا کے لئے مطلوب ہے۔ یعنی لوگوں کے لئے آزادانہ طور پر یہ موقع ہوتا کہ وہ جس چیز کو حق

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page