خشیتِ انسانی کے دور کا خاتمہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۲
سمجھیں اس کو اختیار کر سکیں۔ مذکورہ آیت میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ تم لوگ اولاً پر امن کوشش سے اور اگر ناگزیر ہو تو مسلح کوشش کے ذریعہ اس غیر فطری صورت حال کو ختم کر دو۔ تم اپنی کوشش اس وقت تک جاری رکھو جب تک کہ اللہ کے تخلیقی نقشہ کے مطابق فطری حالت پوری طرح قائم نہ ہو جائے۔
رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ ساتویں صدی میں جو انقلاب لایا گیا وہ اسی مقصد کے تحت تھا۔ یہ انقلاب گویا انسانی تاریخ کو ری پروسس (re-process) کرنے کے ہم معنی تھا۔ اس انقلاب نے انسانی تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری کر دیا۔ یہ عمل اپنی پوری طاقت کے ساتھ تقریباً ایک ہزار سال تک جاری رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے نقطہ اختتام تک پہنچ گیا۔ اب ہم اللہ کے فضل سے اسی نئے دور میں جی رہے ہیں۔ گویا اب اصحاب رسول کی وہ دعا اپنے قبولیت کے تکمیلی دور میں پہنچ گئی ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے: ”ربنا ولا تحمل علينا اصراً كما حملته على الذين من قبلنا“(البقره (۲۸۶) یعنی اے ہمارے رب، ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلے لوگوں پر ڈالا تھا۔
اسلامی انقلاب کے بعد ساری دنیا میں تدریجی طور پر ایک عظیم تبدیلی آئی ہے۔ اس تبدیلی کے کچھ خاص پہلو یہ ہیں —— توہماتی سوچ کے بجائے سائنٹفک طرزِ فکر کا ظہور میں آنا، مذہبی جبر کے بجائے مذہبی آزادی کا دور شروع ہونا، مطلق العنان بادشاہی کے بجائے جمہوری سیاست کا پیدا ہونا۔ ذہنی تنگ نظری کے بجائے ذہنی کھلے پن کا رائج ہونا۔ تشدد دانہ طریقہ کے بجائے پر امن طریقہ کی اہمیت کا مسلم ہونا۔ اندھی تقلید کے بجائے دلیل پر مبنی رائے کا معتبر قرار پانا، نسلی اور طبقاتی تفریق کے بجائے انسانی مساوات کا قائم ہونا، وغیرہ۔ مذکورہ آیت سے مراد یہی عالمی تبدیلیاں ہیں۔ ان تبدیلیوں نے توحید کی دعوت کو اب ہر خطرہ سے باہر کر دیا ہے۔ قدیم زمانے کی طرح، اب یہ اندیشہ نہیں کہ کوئی موحد توحید کا اعلان کرنے تو اس کو یہ کہہ کر جبر آروک دیا جائے کہ تمہارا یہ اعلان سرکاری مذہب کے خلاف ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues