خصوصی شمارہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۱
بیان کرتے ہوئے مجھے یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ: رأیی صواب يحتمل الخطاء ورأی غیری خطأ يحتمل الصواب۔
یہی ہمیشہ خود علماء امت کا موقف رہا ہے۔ وہ مذکورہ قسم کے جملے صرف مستہلبات کے بیان میں لکھتے ہیں نہ کہ منصوصات کے بیان میں۔ مثال کے طور پر کچھ لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اسلام میں نماز پانچ وقت کی نہیں ہے بلکہ صرف دو وقت یا تین وقت کی ہے۔ اس کے مقابلہ میں جب علماء صالحین اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اسلام میں رات اور دن کے درمیان پانچ وقت کی نمازیں فرض ہیں تو وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے مضمون کے آخر میں یہ لکھیں کہ: نحن على الصواب مع احتمال الخطأ و انتم علی الخطأ مع احتمال الصواب۔
البتہ کچھ دوسرے قسم کے مسائل جن کی بنیاد نص پر نہیں ہے بلکہ استنباط پر ہے، ان کے بیان میں علماء مذکورہ قسم کا اعتراف درج کرتے ہیں۔ مثلاً علماء کا ایک طبقہ اگر یہ اصرار کرے کہ جراب پر مسح کی اجازت صرف اس جراب کے لئے ہے جو قدیم طریقہ کے مطابق چمڑے سے بنایا گیا ہو۔ اب دوسرا عالم اگر یہ کہے کہ صنعتی ریشوں سے بنے ہوئے جدید طرز کے موزوں کا بھی وہی حکم ہے اور ان پر بھی مسح جائز ہے، تو اپنے اس بیان کے ساتھ بطور احتیاط وہ مذکورہ قسم کے احتمالی الفاظ لکھ سکتا ہے، کیوں کہ یہ دوسری قسم کا بیان استنباط پر مبنی ہے نہ کہ براہ راست نص پر۔ میں ایسے موقع پر ”غالباً“ جیسا کوئی لفظ استعمال کرتا ہوں۔
میری تحریروں کا دوسرا جز وہ ہے جس کا تعلق جدید حالات کی نسبت سے تدبیر کار پر ہے۔ مثلاً پر تشدد جدوجہد کے مقابلہ میں پر امن جدوجہد۔ جلسہ جلوس کے طریقہ کے بجائے گفت و شنید کا طریقہ، اختلافی معاملات میں محاذ آرائی کے بجائے حکیمانہ انداز، خارجی اقدام سے پہلے داخلی تیاری، وغیرہ۔
یہ دوسری باتیں بھی اپنی اصل کے اعتبار سے منصوصات پر مبنی ہیں۔ البتہ چونکہ ان کا تعلق خارجی حالات سے ہے اور خارجی حالات بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان باتوں پر انطباق
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues