Al-Risala · June 2001 · page 23

خشیتِ انسانی کے دور کا خاتمہ

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۳

اب دعوت توحید کے لئے یہ خطرہ نہیں کہ کچھ لوگ صرف اندھی عصبیت کی بنا پر اس کے دشمن ہو جائیں۔ اب موحدین کے گروہ کو اس مسئلہ کا سامنا پیش نہیں آسکتا کہ نسلی عصبیت کی بنا پر ان کی دعوت کو رد کر دیا جائے۔ اب موحدین کے لئے ایسا ہونے والا نہیں کہ وہ انتہائی پر امن انداز میں اپنی دعوت دیں اور پھر بھی انہیں اپنا کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اگر کوئی فرد یا گروہ "اسلام خطرہ میں ہے" (Islam is in danger) کے تصور کی بنیاد پر کوئی اسلامی تحریک اٹھائے تو وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے خلاف زمانہ روش (anachronism) کے ہم معنی ہوگی۔ اب قرآن کے مطابق، وہی اسلامی تحریک درست تحریک ہے جو اسلام خطرہ سے باہر ہے (Islam is out of danger) کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہو۔

مذکورہ قرآنی آیت بتاتی ہے کہ اب اہل اسلام کے لئے ان کی سوچ کا نقطہ آغاز (starting point) کیا ہونا چاہئے۔ حالات خواہ بظاہر جیسے بھی ہوں، اہل اسلام کو یہ یقین کرنا چاہئے کہ بعد کے دور میں اسلام کبھی بھی خطرہ میں نہیں ہو سکتا۔ ان کا طرز فکر ہر حال میں یہ ہونا چاہئے کہ اسلام اب خطرہ سے باہر ہے۔ اس لئے انہیں پیشگی طور پر یہ سمجھ کر اپنا منصوبہ بنانا چاہئے کہ ان کے منصوبہ کے اجراء اور تکمیل کے لئے اب کوئی حقیقی خطرہ یا رکاوٹ موجود نہیں۔ اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اگر کبھی کسی مقام پر اہل اسلام کی کسی تحریک کو خطرہ کی صورت حال پیش آئے تو اس کا سبب تلاش کرنے کے لئے انہیں باہر دیکھنے کے بجائے خود اپنے اندر دیکھنا چاہئے۔ کیوں کہ یہ خطرہ یقینی طور پر کسی خارجی سازش کی بنا پر نہ ہو گا بلکہ داخلی غلطی کی بنا پر ہوگا۔ اس لئے اب اہل اسلام کو چاہئے کہ وہ اپنی ساری تو جہ داخلی کوتاہی کو دور کرنے پر لگائیں نہ کہ باہر کے مفروضہ دشمنوں سے ٹکراؤ پر۔

قرآن میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ : قد افلح المومنون الذین هم فی صلاتهم خاشعون (المومنون ا-۲) یعنی یقیناً فلاح پا گئے ایمان والے جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔ اسی حقیقت

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page