خشیتِ انسانی کے دور کا خاتمہ
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۴
کا اعلان ہر نماز سے پہلے مؤذن کی زبان سے ان الفاظ میں کیا جاتا ہے ”حی علی الفلاح“۔ اب اگر کوئی شخص یہ نظریہ قائم کرے کہ نماز موجودہ زمانہ میں فلاح کا ذریعہ نہیں کیوں کہ وہ روزانہ پانچ بار لوگوں کا وقت لیتی رہتی ہے، نیز یہ کہ وہ لوگوں کے ذہن کو موجودہ دنیا کی حقیقتوں سے ہٹانے کا سبب بنتی ہے تو ایسے نظریہ کو فوراً ہی رد کر دیا جائے گا۔ کیوں کہ یہ نظریہ فلاح کو کسی اور چیز کے ساتھ جوڑ رہا ہے، جب کہ قرآن میں فلاح کو نماز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ اسی طرح قرآن کے مذکورہ اعلان کے بعد ”اسلام خطرہ میں ہے“ کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی جانے والی تحریک بلا بحث ہی قابلِ رد ہے، کیوں کہ وہ قرآن کے واضح اعلان کی نفی کے ہم معنی ہے۔ اب صرف وہی تحریک درست اور جائز ہے جو ”اسلام خطرہ سے باہر “ کے نظریہ کی بنیاد پر اٹھائی گئی ہو۔
موجودہ زمانہ میں کچھ لوگوں نے اسلام کے نام پر پر تشد د سیاسی تحریکیں اٹھائیں۔ اس کے نتیجہ میں ان کا ٹکراؤ وقت کے حکمرانوں سے ہوا۔ ان حکمرانوں نے تحریک کے علم برداروں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنایا۔ اس طرح کے واقعات کا یہ مطلب نہیں کہ خشیت انسانی کے حالات آج بھی دنیا میں باقی ہیں۔ ان تحریکوں کو جس سیاسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا وہ ان کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اسلام کے نام پر غیر اسلامی تحریکیں چلائیں۔ انہوں نے اقتدار کو چھیننے کی تحریک اٹھائی جب کہ صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت دینے کے لئے اٹھائی جائے۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانہ کی سیاسی تحریکوں کے ساتھ جو متشد دانہ واقعات پیش آئے وہ ان کی اپنی نادانی کا نتیجہ تھے نہ کہ حقیقۃً اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues