اسلام کا طریق انقلاب
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۲۵
اسلام کا طریق انقلاب
اسلام کا طریقِ انقلاب انسانی زندگی میں عین وہی ہے جو نباتات کی زندگی میں درخت کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ درخت اپنی ذات میں ایک مکمل وجود ہے۔ مگر اس مکمل وجود کو ظہور میں لانے کا کام بیج سے شروع ہوتا ہے نہ کہ مکمل درخت سے۔ درخت دراصل بیج کے تدریجی مراحل سے گزر کر اپنی تکمیل تک پہنچنے کا دوسرا نام ہے۔
ٹھیک یہی معاملہ انسانی زندگی کا ہے۔ انسانی زندگی میں اصلاح کا عمل فرد کے اندر انقلاب سے شروع ہوتا ہے اور پھر ضروری تدریجی مراحل سے گزرتے ہوئے مکمل انقلاب کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اس کے برعکس اجتماعی زندگی سے عمل کا آغاز کرنا گویا گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا ہے۔ یہ ایک غیر فطری طریقہ ہے جو خدائی منصوبہ کے سراسر خلاف ہے۔ اس قسم کا غیر فطری منصوبہ کبھی موجودہ دنیا میں کامیاب ہونے والا نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں ایمان اور مومن کے معاملہ کو درخت جیسا ایک معاملہ بتایا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے : کیا تم نے نہیں دیکھا، کس طرح مثال بیان فرمائی اللہ نے کلمہ طیبہ کی۔ وہ ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ زمین میں جمی ہوئی ہے اور جس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں۔ وہ ہر حین پر اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللہ لوگوں کے لئے مثال بیان کرتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ (ابراہیم ۲۴۔۲۵)
ایک جائزہ
موجودہ زمانہ کی مسلم دنیا میں ایک عجیب و غریب منظر دکھائی دیتا ہے۔ پچھلے کئی سو سال کے دوران ساری مسلم دنیا میں بڑے بڑے انقلابی رہنما اٹھے۔ انہوں نے ہنگامہ خیز تحریکیں چلائیں۔ مسلمانوں نے جان و مال کی بے شمار قربانیوں کے ذریعہ ان کا ساتھ دیا۔ مگر یہ تمام کی تمام تحریکیں ظاہری ہنگاموں کے باوجود حبط اعمال کا شکار ہو گئیں۔ ان کا کوئی بھی مثبت نتیجہ ملت کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues