خصوصی شمارہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۲
(application) کے اعتبار سے ، ایک سے زیادہ رائیں ہو سکتی ہیں۔ اس پہلو سے ایک شخص یہ حق اختلاف رکھتا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ یہ بتائے کہ حالات کی نوعیت اس کے نزدیک اس سے مختلف ہے جو میں نے اپنے مطالعہ سے سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں خود سنت رسول میں مختلف نمونے پائے جاتے ہیں۔
چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن مشرکین سے جنگ کی انہی مشرکین سے حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح کر لی۔ اسی طرح آپ نے احد کے موقع پر مدینہ سے تین میل باہر جا کر مخالفین سے مقابلہ کیا اور پھر احزاب کے موقع پر انہیں مخالفین سے مدینہ کے اندر رہ کر دفاع کیا ، وغیرہ۔ اس لئے شریعت کا یہ متفقہ اصول ہے کہ : تغیر الاحکام بتغیر الزمان و المكان۔
تدبیر کار سے متعلق میری جو تحریریں ہیں وہ اسی آخری نوعیت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان تحریروں میں مسلمانوں کو جو مشورہ دیا جاتا ہے اس کے رد و قبول کی بنیاد یہ ہے کہ حالات کا بے لاگ مطالعہ کر کے ان کی حقیقی نوعیت کو سمجھا جائے۔ اور پھر یہ دیکھا جائے کہ قرآن و سنت کے کون سے احکام ان حالات پر منطبق ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہو تو اس کو الزام تراشی اور بہتان طرازی کے بجائے دلائل اور تجزیہ کی زبان میں بتانا چاہئے کہ میرے نقطہ نظر کے بجائے دوسرا نقطہ نظر قرآن و سنت سے کیوں اس کے نزدیک زیادہ قریب ہے۔ سوال تبلیغی جماعت کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے۔ وہ ہر جگہ کافی مقبول ہو رہی ہے۔ اس کی اس مقبولیت کا راز کیا ہے۔ (عمر فاروق، نیویارک، بذریعہ ٹیلی فون) جواب تبلیغی جماعت کے ذریعہ امت کو کچھ فائدے مل رہے ہیں۔ مثلاً مسجد کے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا۔ اس لحاظ سے وہ قابل قدر ہے۔ مگر تبلیغی جماعت کا طریقہ ایک اجتہادی طریقہ ہے وہ کوئی منصوص طریقہ نہیں۔ ان کے جلسوں میں قرآن کے بجائے فضائل کی
‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues