تفسیر بالرائے
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۳
ہے۔ قرآن اپنے لا محدود معانی کی بنا پر اہل اسلام کے لئے فکری ارتقاء کا ضامن ہے۔ ایسی کتاب میں نئی علمی دریافتوں کا دروازہ بند کرنا خود اس کتاب کے مقصد کی نفی کے ہم معنی ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اہل اسلام ذہنی جمود کا شکار ہو جائیں گے۔ وہ نہ خود علمی ترقی کریں گے اور نہ انسانی قافلوں کی علمی و فکری قیادت کا مطلوب کام انجام دے سکیں گے۔
اصل یہ ہے کہ قرآن کی تفسیر کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ تفسیر جو تدبر کے ساتھ کی جائے اور دوسری تفسیر وہ ہے جو تدبر کے بغیر کی جائے۔ اسی دوسری تفسیر کا نام تفسیر بالرائے ہے۔ تدبر کے ساتھ تفسیر کا مطلب یہ ہے کہ قاری عربی زبان نیز احادیث و آثار سے بخوبی واقفیت حاصل کرے۔ وہ قرآن کی صرف ایک آیت کو لے کر اس کی تفسیر نہ کرنے لگے، بلکہ وہ مجموعی طور پر پورے قرآن کے منشاء و مقصود کو سامنے رکھے۔ وہ قرآن سے متعلق دوسرے علوم سے گہری واقفیت حاصل کرے۔ اسی طرح وہ یہ کرے کہ دورِ اول سے لے کر بعد کے زمانہ تک مسلمہ دینی شخصیتوں نے جو تفسیریں کی ہیں ان سے وہ بھر پور واقفیت حاصل کرے۔ اسی کے ساتھ وہ تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کرے جس کو قرآن میں علم کا سر چشمہ بتایا گیا ہے۔ (البقرہ ۲۸۲)۔ یہ قرآن کی تفسیر کا صحیح طریقہ ہے۔
اس کے بر عکس تفسیر بالرائے یہ ہے کہ آدمی صرف اپنی رائے پر اعتماد کرے۔ آیت کے حوالے سے اس کے ذہن میں جو بھی خیال آجائے وہ اس کو قرآن کی تفسیر سمجھ کر اسے بیان کرنے لگے۔ خواہ آیت کے سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔ خواہ قرآن کے مجموعی احکام سے وہ مطابقت نہ رکھتا ہو۔ یہاں تفسیر بالرائے کی چند مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ 1۔ تفسیربالرائے کی ایک صورت وہ ہے جو اتنی قبیح ہے کہ اس کو سننے اور پڑھنے کے بعد فورا ہی سنجیدہ آدمی کا ذہن اس کو رد کر دے۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے ”وربك فكبر“ (المدثر ۳) اس آیت کا ترجمہ کچھ لوگوں نے یہ کیا کہ اور تم اپنے رب کو بڑا کرو، اس ترجمہ کو لے کر آیت کی تفسیر انہوں نے یہ کی کہ خدا کی (سیاسی بڑائی) دنیا میں قائم کرو، خدا کی حکومت کا جھنڈا
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues