Al-Risala · June 2001 · page 34

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴

دنیا میں بلند کرو۔

یہ ترجمہ اور تفسیر دونوں تفسیر بالرائے کی ایک بدترین صور تیں ہے، عقلِ سلیم ہی اس کو غلط سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے آپ میں بڑا ہے۔ وہ اس کا محتاج نہیں کہ اس کی کوئی مخلوق کسی پہلو سے اس کو بڑا کرے۔ آیت کے مطابق، انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اللہ کی عظمت کو اپنے دل اور دماغ میں اتارے۔ اللہ کی عظمت کا احساس اس کی روح کے اندر تیرنے لگے۔ اپنے چھوٹا ہونے اور اللہ کے بڑا ہونے کا عرفان اس کو انسان اصلی (man cut to size) بنا دے۔ یہی تکبیر رب کا مطلب ہے۔

مذکورہ آیت کا صحیح ترجمہ یہ ہے کہ __ اور اپنے رب کی بڑائی کرو، یا اپنے رب کی بڑائی بول، یا اپنے رب کی بڑائی بیان کر۔ اس ترجمہ کے مطابق، آیت میں جس تکبیرِ رب کا ذکر ہے اس کا تعلق کسی خارجی سیاست سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق آدمی کی اپنی داخلی کیفیت سے ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کا دماغ اللہ کی عظمت کو شعوری طور پر دریافت کرے۔ اس کا دل اللہ کی عظمت کے احساس سے تڑپ اٹھے۔ اللہ کی عظمت کا اعتراف اس کی زبان پر جاری ہو جائے۔ یہی وہ تکبیرِ رب ہے جس کا قرآن میں حکم دیا گیا ہے۔

۲۔ قرآن کے آغاز میں یہ آیت آئی ہے ”ذالک الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ“ (البقرہ ۲) یعنی یہ کتاب (الہی) ہے، اس میں کوئی شک نہیں، یا یہ کہ یہ کتاب ایسی ہے جس میں کوئی شک نہیں۔ اس آیت کی نحوی ترکیب میں کچھ اختلاف ہے۔ تاہم ہر مفسر نے یہاں کتاب کو کتاب ہی کے معنی میں لیا ہے۔ اس کے بارے میں ایک صاحب نے لکھا ہے کہ وہ تمام ترجمے غلط ہیں جن میں ”ذالك الکتاب“ کا ترجمہ کتاب سے کیا جاتا ہے۔ ان کے نزدیک قرآن تمام علوم کا خزانہ ہے۔ اس لئے ذٰلِکَ الْکِتَاب کا سب سے قریبی ترجمہ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک انسائیکلو پیڈیا ہے۔ یہ ترجمہ یقینی طور پر رائے کی بنیاد پر کیا گیا ہے نہ کہ حقیقی علم کی بنیاد پر، اس لئے کہ انسائیکلو پیڈیا ایسی کتاب کا نام ہو تا ہے جس میں ہر قسم کی معلومات یکجا کی گئی ہوں۔ مگر قرآن

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page