تفسیر بالرائے
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۵
انسائیکلو پیڈیا کی مفہوم میں معلومات کا مجموعہ فہمیں۔ اس کے بجائے وہ علم اور معرفت کا مجموعہ ہے، وہ خزانہ حکمت ضرور ہے مگر وہ معروف معنی میں، خزانہ معلومات نہیں۔ مثال کے طور پر اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے، مگر قرآن میں یکجائی طور پر کہیں یہ کلمہ موجود نہیں۔ اسلام میں نماز پانچ وقتوں کے لئے فرض کی گئی ہے۔ مگر پانچ کے عددی تعین کے ساتھ قرآن میں نماز کا حکم موجود نہیں۔ انسائیکلو پیڈیا میں جن اشخاص کا ذکر آتا ہے، اس میں سال پیدائش اور سال وفات کے ساتھ ان کا ذکر آتا ہے۔ مگر قرآن میں پیغمبر اسلام نیز دوسرے پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کی سال پیدائش یا سال وفات قرآن میں مذکور نہیں۔ اس طرح کی ہزاروں معلوماتی باتیں ہیں جن سے قرآن کے صفحات خالی ہیں۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں کتاب کا ترجمہ انسائیکلو پیڈیا کے لفظ سے کرنا ایک ذاتی اپج ہے، اس کے حق میں کوئی علمی بنیاد موجود نہیں۔
۳۔ قرآن میں ایک حکم وہ ہے جو ”اقیموا الدین“ (الشوریٰ ۱۳) کے الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا سادہ ترجمہ یہ ہے کہ تم الدین کو قائم کرو۔ کچھ لوگوں نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اس آیت میں الدین سے مراد قرآن و حدیث میں وارد شدہ تمام شرعی اور دینی احکام ہیں۔ اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان تمام شرعی اور دینی احکام کو ایک مکمل نظام کے طور پر دنیا میں نافذ کرو۔
آیت کی یہ تفسیر بلا شبہ تفسیر بالرائے کے حکم میں آتی ہے کیوں کہ وہ قرآن نہی کے واضح اصولوں کے خلاف ہے۔ مثال کے طور پر، اس آیت میں صراحتہ اس حصہ دین کی اقامت کا حکم دیا گیا ہے جو حضرت نوح کو اور حضرت ابراہیم کو اور حضرت موسیٰ کو اور حضرت عیسیٰ کو اور حضرت محمد کو مشترک طور پر دیا گیا۔ اس مخصوص انداز بیان کی بنا پر تمام مفسرین نے اس کا مطلب یہ لیا ہے کہ یہاں الدّین سے مراد صرف دین کی اساسی تعلیمات ہیں کیوں کہ مختلف پیغمبروں کا مشترک دین یہی اساسی تعلیمات تھیں۔ جہاں تک تفصیلی شرائع کا تعلق ہے وہ نص
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues