تفسیر بالرائے
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۶
قرآنی (المائدہ ۴۸) کے مطابق مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف تھیں ۔
اس آیت میں جو حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ الدین کو قائم کرو اور اس میں متفرق نہ ہو (الشورئیٰ ۱۳) چونکہ دین کی مشترک پیروی صرف اساسی دینی تعلیمات ہی میں ہو سکتی ہے اس لئے یہاں صرف اساسی دینی تعلیمات کو اقامت کے تحت سمجھا جائے گا۔ تمام شرائع کو اس کے تحت لینے کی صورت میں تفرق لازم آئے گا، یعنی وہی چیز جس سے آیت میں منع کیا گیا ہے۔ تفسیر بذریعہ تدبر عام طور پر تفسیر کی دو قسمیں سمجھی جاتی ہیں۔ تفسیر ماثور، اور تفسیر بالرائے۔ مگر تفسیر کی ایک اور قسم ہے جس کو تفسیر بذریعہ تدبر کہا جا سکتا ہے۔ احادیث و آثار اور اقوال سلف کی روشنی میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرنا، بلاشبہہ بہت اہم اور ضروری ہے۔ مگر قرآن کے عجائب کو مزید دریافت کرنے کے لئے ہر دور میں اس پر غور و تدبر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ جائز دائرے میں اس کا سلسلہ کبھی بند نہیں ہو گا۔ یہاں قرآن سے ایک مثال دی جاتی ہے جس سے یہ معاملہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔
قرآن کی سورہ نمبر ۱۲ میں حضرت یوسف کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف کو مصر کے ارضی خزائن پر حاکم مقرر کیا گیا۔ قحط کے زمانہ میں ان کے خصوصی انتظام کے تحت لوگوں کو غلہ فراہم کیا جانے لگا۔ اسی زمانہ میں غلہ لینے کے لئے ان کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ اور غلہ حاصل کر کے روانہ ہوئے۔ پھر یہ واقعہ ہوا کہ دربار کے کارکنوں نے حضرت یوسف کے چھوٹے بھائی بن یامین کے اونٹ پر لدے ہوئے غلہ سے ایک شاہی سامان بر آمد کیا۔ اس کے بعد بن یامین کو چوری کے الزام میں ماخوذ کر کے حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ یہاں قرآنی آیتوں کی تفسیر عام طور پر یہ کی جاتی ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی بن یامین کو پہچان کر انہیں اپنے پاس رو کنا چاہا مگر چونکہ وہ اپنی شخصیت کو ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے اس لئے انہوں نے یہ تدبیر کی کہ جب بھائیوں کو غلہ دیا جانے لگا تو ان کے حکم سے ایک شاہی سامان
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues