Al-Risala · June 2001 · page 37

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۷

(سقایہ) بن یامین کے سامان میں رکھ دیا گیا پھر جب وہ لوگ اپنا غلہ لے کر جانے لگے تو نعوذ باللہ حضرت یوسف نے یہ کیا کہ قافلے کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی کر وائی۔ پھر جب منصوبہ کے مطابق، شاہی سقایہ بن یامین کے سامان سے نکل آیا تو انہوں نے بن یامین کو نعوذ باللہ چور قرار دے کر اپنے پاس روک لیا اور بقیہ بھائیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ یہ تفسیر واضح طور پر ایک پیغمبر کے اخلاق کو داغدار کرتی ہے۔ مگر جب قرآن کی متعلق آیتوں کا گہر امطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ تفسیر کے علاوہ یہاں ایک اور زیادہ صحیح تفسیر موجود ہے۔ اس دوسری تفسیر میں حضرت یوسف مکمل طور پر بری الذمہ قرار پاتے ہیں۔ یہ دوسری تفسیر سورۃ یوسف (رکوع 9آیت ۷۰- 70۔ 76)کے کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں میں بتایا گیا ہے کہ حضرت یوسف نے جب ان کا سامان سفر درست کیا تو اپنے بھائی بن یامین کے سامان میں اپنا سقایہ (پینے کا پیالہ) رکھ دیا پھر جب بھائیوں کا یہ قافلہ روانہ ہوا تو در باریوں کو کسی وجہ سے اپنا صواع (ناپنے کا پیمانہ) دکھائی نہیں دیا۔ چنانچہ انہوں نے قافلہ والوں کو پکار کر روکا اور کہا کہ ہم کو شبہہ ہے کہ تم نے ہمارا (چاندی کا) صواع چرا لیا ہے۔ چنانچہ قافلہ کو روک کر ان کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ آخر کار حضرت یوسف کے بھائی بن یامین کے سامان سے وہ بر آمد ہو گیا۔ پھر کنعان کے قانون کے مطابق بن یامین کو پکڑ کر حضرت یوسف کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح حضرت یوسف کو اپنا وہ بھائی مل گیا جس کو وہ اپنے پاس روک لینا چاہتے تھے۔ ان آیتوں کے الفاظ پر غور کیجئے تو ایک بہت با معنی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ حقیقت عربی قاعدہ کے مطابق، ضمیر کے فرق میں چھپی ہوئی ہے۔ وہ یہ کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں جو چیز رکھی وہ سقایہ (۷۰) تھا۔ یعنی ایک ایسی چیز جو عربی قاعدے کے مطابق، مونث ہے مگر دربار کے کارکنوں نے قافلے والوں کی تلاشی کے بعد ان کے سامان میں سے جو چیز بر آمد کی اُس کو قرآن میں ضمیر مذکر کے بجائے ضمیر مونث (ثم استخرجھا) کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی ضمیر ’ہ‘ کی بجائے ’ھا‘۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page