Al-Risala · June 2001 · page 38

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۳۸

ضمیر کے اس فرق پر غور کرنے سے معاملہ کی جو صورت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف نے اپنے بھائی کے سامان میں برادرانہ محبت کے تحت زادِ راہ کے ساتھ اپنا پانی پینے کا پیالہ بھی رکھ دیا تھا۔ درباری کارکن اس سے باخبر نہ تھے۔ البتہ اس دوران دربار کی ایک اور زیادہ بڑی چیز ، صواع (غلہ ناپنے کا پیمانہ) سامانوں میں دب کر بظاہر گم ہو گیا۔ جلدی میں درباری کارکنوں کا دھیان قافلے والوں کی طرف گیا اور انہوں نے ان پر شبہ کرتے ہوئے انہیں روکا اور ان کے سامان کی تلاشی لی۔ اس تلاشی کے دوران ان کا مطلوب پیمانہ "صواع" تو نہیں ملا البتہ اس دربار کی ایک اور چیز، پانی پینے کا پیالہ (سقایہ) بن یامین کے سامان سے برآمد ہو گیا۔ چنانچہ انہوں نے بن یامین کو خود برادرانِ یوسف کی شریعت کے مطابق روک لیا۔

یہ سارا معاملہ حضرت یوسف کے کسی حکم کے بغیر درباریوں نے بطور خود کیا۔ اسی لئے اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ”اس طرح ہم نے یوسف کے لئے تدبیر کی، وہ بادشاہ کے قانون کے رو سے اپنے بھائی کو نہیں لے سکتا تھا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے ۔ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے بالا تر ایک علم والا ہے۔ (یوسف (۷۶) یہ تفسیر قرآنی الفاظ کے مطابق بھی ہے اور حضرت یوسف کی پیغمبرانہ عظمت کے مطابق بھی۔

قرآن میں اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ : وأعدوا لهم مااستطعتم من قوة و من رباط الخيل ترهبون به عدو الله و عدو كم و آخرين من دونهم لا تعلمونهم الله يعلمهم (الانفال (۶۰) یعنی اور ان کے لیے جس قدر تم سے ہو سکے تیار رکھو قوت اور پلے ہوئے گھوڑے کہ اس سے تمہاری ہیبت رہے اللہ کے دشمنوں پر اور تمہارے دشمنوں پر اور ان کے علاوہ دوسرے پر بھی جن کو تم نہیں جانتے ۔ اللہ ان کو جانتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے ایک عرب مفسر قرآن نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اعدادِ قوت کا مقصد تحریر الانسان ہے۔ اہلِ ایمان کو طاقت کی فراہمی کا حکم اس لیے دیا گیا تاکہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page