Al-Risala · June 2001 · page 40

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۰

ایک خط

برادر محترم جناب جسٹس قاضی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۱۹ مارچ ۲۰۰۱ء کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ موجودہ امت مسلمہ کے بارے میں آپ سے جو بات ہوئی تھی اس کی کچھ تفصیل یہاں درج کر رہا ہوں امید کہ غور فرمائیں گے۔ ابن خلدون (وفات ۸۰۸ھ) نے لکھا ہے کہ جس طرح اشخاص کی ایک عمر ہوتی ہے اسی طرح ملتوں کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ کوئی ملت تین نسل تک عروج پر رہتی ہے اس کے بعد اس پر زوال آنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ ایک اٹل قانون ہے (مقدمہ ابن خلدون 170۔ 171) یہ ایک حقیقت ہے کہ جوانی کے بعد بڑھاپا آتا ہے۔ قومیں عروج کے بعد زوال کا شکار ہوتی ہیں۔ یہ فطرت کا ایک عمومی قانون ہے۔ مگر اس عموم میں استثناء ممکن ہے۔ اس معاملہ کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے کہ : کیا ایمان والوں کے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کی نصیحت کے آگے جھک جائیں۔ اور اس حق کے آگے جو نازل ہو چکا ہے۔ اور وہ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جن کو پہلے کتاب دی گئی تھی۔ پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے ۔ اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ جان لو کہ اللہ زمین کو زندہ کرتا ہے اس کی موت کے بعد، ہم نے تمہارے لئے نشانیاں بیان کر دی ہیں، تاکہ تم سمجھو (الحديد ۱۶۔ ۱۷) اس قرآنی بیان پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ طولِ اُمَد کے نتیجہ میں ہمیشہ قساوت پیدا ہوتی ہے، یعنی امت کی ابتدائی نسل زندہ شعور کے ساتھ مومن بنتی ہے اس لئے اس کا ایمان قوی ہوتا ہے۔ لیکن بعد کے لوگ محض نسلی تعلق کی بنا پر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں اس لئے ان کے ایمان میں ضعف آجاتا ہے۔ اسی ضعف کا نتیجہ زوال ہے۔ اس ضعف کی حالت کو دوبارہ قوت کی حالت میں کیسے بدلا جائے، اس کا جواب زمین کی مثال میں دیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page