Al-Risala · June 2001 · page 41

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۱

زمین بھی اسی طرح بنجر ہو جاتی ہے۔ مگر جب اس میں دوبارہ کسانی عمل کیا جائے تو وہ زرخیز ہو کر عمدہ فصل دینے کے قابل ہو جاتی ہے۔ یہی عمل زوال کے زمانہ میں امت کے افراد پر کرنا ہے۔ وہ یہ کہ تذکیر و تعلیم کے ذریعہ ان کے اندر دوبارہ خشوع کی کیفیت پیدا کی جائے۔ دوسرے لفظوں میں، شعورِ ایمان پیدا کرنے کا وہی عمل جو ابتدائی لوگوں پر کیا گیا تھا اور جس کے نتیجہ میں وہ باشعور مومن بن کر امت میں داخل ہوئے تھے۔

امت مسلمہ اب زوال کا شکار ہو چکی ہے، اس کا اعتراف اکثر رہنماؤں نے کیا ہے۔ مثلاً اقبال نے اپنے زمانہ کے مسلمانوں کے بارے میں اپنا تجربہ اس طرح بیان کیا تھا: تیرے محیط میں کہیں جوہرِ زندگی نہیں دیکھ چکا میں موج موج ڈھونڈ چکا صدف صدف اقبال کا کلام گویا مردہ امت میں دوبارہ زندگی لانے کی ایک کوشش تھی۔ مگر اقبال کی ساری کوشش عملاً بے نتیجہ رہی، اس کا سبب یہ ہے کہ ان کی تشخیص تو درست تھی مگر ان کی تجویز سراسر غلط۔ انہوں نے مسلمانوں کے زوال کو ختم کرنے کے لئے جو علاج دریافت کیا وہ ان کے الفاظ میں بانگِ درا اور ضربِ کلیم تھا۔ چنانچہ انہوں نے کہا:

نوا را تلخ تر می زن چو ذوق نغمہ کم یابی حدی را تیز تر می خواں چو محمل را گراں بینی اقبال کی طرح دوسرے بہت سے رہنماؤں نے اس حقیقت کو دریافت کیا کہ امت زوال کا شکار ہو چکی ہے۔ اس دریافت کے بعد انہوں نے احیاء امت کے لئے بڑی بڑی تحریکیں چلائیں۔ انیسویں صدی اور بیسویں صدی اس قسم کی سرگرمیوں سے بھری ہوئی ہے۔ مگر تقریباً یہ تمام سرگرمیاں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ ہر ایک کے ساتھ مشترک طور پر یہ حادثہ پیش آیا کہ تشخیص کی حد تک وہ درست تھے مگر تجویز یا مرض کے علاج کے بارے میں سراسر غلط۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان اب اپنے زوال کے آخری دور میں پہنچ چکے ہیں۔ قرآن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح بنجر زمین کو دوبارہ سر سبز زمین بنایا جاسکتا ہے اسی طرح زوال یافتہ امت کو بھی دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ اس کے اوپر اصلاح کا درست عمل جاری کیا جائے اور امت اس اصلاحی عمل کو قبول کرلے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page