Al-Risala · June 2001 · page 42

تفسیر بالرائے

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۲

اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی امت کو دوبارہ زندہ کرنے کا یہ عمل اس کے افراد میں معرفت کا شعور پیدا کرنے سے ہوگا نہ کہ کلمہ کا تلفظ درست کرنے سے۔ یہ مقصد نماز کو خشوع کا عمل بنانے سے حاصل ہوگا نہ کہ فضائل کی طلسماتی کہانیاں سنا کر مسجدوں کی بھیڑ میں اضافہ کرنے سے۔ اس کا آغاز لوگوں میں عجزِ خداوندی کی روح جگانے سے ہوگا نہ کہ ان کے اندر قومی فخر کا جذبہ ابھارنے سے۔ یہ کام ملت کے اندر محاسبہ خویش کا مزاج پیدا کرنے سے ہوگا نہ کہ خارجی سازشوں کا انکشاف کرنے سے۔ یہ کام افراد کی تعلیم و تربیت سے شروع ہوگا نہ کہ زمین پر قبضہ کر کے فوجداری قوانین نافذ کرنے سے۔ یہ کام لوگوں کے اندر صبر کی صفت پیدا کرنے سے ہوگا نہ کہ لوگوں کو ٹکراؤ کے میدان میں سرگرم کرنے سے۔ یہ مقصد لوگوں کے اندر ہوش پیدا کر کے حاصل ہوگا نہ کہ رجز خوانی کے ذریعہ جوش ابھارنے سے۔ ملت کے احیاء نو کے لئے جو چیز مطلوب ہے وہ اس کے اندر روحانی بیداری ہے نہ کہ سیاسی ہنگاموں کا جنگل اگانا اکثر کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ موجودہ مسلمانوں میں جو کمی ہے وہ فقدانِ قیادت کی نہیں ہے بلکہ فقدان قبولیت قیادت کی ہے۔ کسی قوم کا احیاء نو بلا شبہ ممکن ہے مگر اس کا انحصار اس پر ہے کہ وہ قوم اصلاحی کوشش کو قبول کرتی ہے یا نہیں۔ یہاں میں اس سلسلہ کی ایک معاصر مثال پیش کروں گا۔

روس اور چین دونوں کمیونسٹ ملک تھے مگر روس کا نظام تباہی کا شکار ہو گیا۔ اس کے برعکس چین کا نظام بدستور چلا جا رہا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ چین میں ایک مدبر قائد (Teng hsiao-Ping) اٹھا۔ وہ ۱۹۰۴ء میں پیدا ہوا۔ اس کی تعلیم فرانس میں ہوئی۔ اس نے گہرے مطالعہ کے ذریعہ کنٹرولڈ اکانومی کے مقابلے میں لبرل اکانومی کی اہمیت کو سمجھا۔ وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کا لیڈر تھا۔ اس نے یہ نظریہ قائم کیا کہ سیاست پر کمیونسٹ پارٹی کا کنٹرول باقی رکھتے ہوئے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو آزاد کر دیا جائے۔ لمبی مخالفت کے بعد وہ اس میں کامیاب ہوا۔ سیاست اور اقتصادیات کے درمیان تفریق (۱۹۷۹ء-۱۹۷۲ء) کا یہ نتیجہ ہے کہ چین زوال کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page