Al-Risala · June 2001 · page 43

نئی دہلی، 21مارچ2001ء دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۳

شکار ہونے کے بعد دوبارہ سنبھل گیا۔ روس میں بھی کچھ ایسے مفکر پیدا ہوئے مگر روسی کمیونسٹ پارٹی ان کو قبول نہ کر سکی نتیجہ یہ ہوا کہ روس کا نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہ گیا۔ قانون فطرت کے مطابق موجودہ مسلمانوں کا احیاء نو اتنا ہی ممکن تھا جتنا کہ بنجر زمین کا دوبارہ زندہ ہونا۔ مگر موجودہ زمانہ کے غیر دانشمند مصلحین اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے۔ ان لوگوں نے اپنی غلط کوششوں سے مسلمانوں کے مزاج کو اس طرح بگاڑ دیا کہ وہ صحیح رہنمائی کو قبول کرنے کے قابل ہی نہ رہے۔ ان کا وہ حال ہو گیا جس کی تصویر قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ : اور اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو نہ اپنائیں گے اور اگر وہ گمراہی کا راستہ دیکھیں تو وہ اس کو اپنا لیں گے (الاعراف ۱۴۶)

اسی مزاجی بگاڑ کا یہ نتیجہ ہے کہ اب انہیں وہی باتیں اپیل کرتی ہیں جو ہائی پروفائل میں کہی گئی ہوں۔ جب کہ اس دنیا میں حقیقی مصلح وہ ہے جو لو پروفائل میں کلام کرے۔ ان مسلمانوں کو ٹکراؤ کی زبان اچھی معلوم ہوتی ہے جب کہ اچھی زبان وہ ہے جو نرمی اور امن کی زبان ہو۔ ان کو اغیار کے خلاف احتجاج کرنا کام نظر آتا ہے جب کہ کام یہ ہے کہ خود اپنی کمیوں کو تلاش کر کے ان کو درست کیا جائے۔ ان کو بڑے بڑے خیالی منصوبے اہم دکھائی دیتے ہیں، حالاں کہ اہم منصوبہ وہ ہے جو ٹھوس حقائق کی بنیاد پر بنایا گیا ہو۔ وہ ان لوگوں کو اپنا ہمدرد سمجھتے ہیں جو انہیں خوش کرنے والی بولی بولیں، حالانکہ سچا ہمدرد وہ ہے جو نصیحت کی زبان میں کلام کرے۔ یہی مزاجی بگاڑ موجودہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں اٹھنے والی تمام تحریکوں نے صرف مسلمانوں کے مزاج کو بگاڑنے کا کام کیا ہے۔ یہی وہ خاص وجہ ہے جس کی بنا پر اب مسلمانوں کا یہ حال ہو گیا کہ بے دانش رہنما ان کے درمیان مقبولیت پاتے ہیں اور دانشمند رہنما ان کے درمیان نا قابل قبول بن کر رہ جاتے ہیں۔ اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمانوں میں احیاء نو کا کوئی حقیقی عمل ابھی تک جاری نہ ہو سکا۔

نئی دہلی، 21مارچ2001ء دعاگو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page