Al-Risala · June 2001 · page 44

نئی دہلی، 21مارچ2001ء دعاگو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۴

ایک خط

برادر محترم عبد السلام اکبانی صاحب ! السلام علیکم ورحمة اللہ ۵ فروری ۲۰۰۱ کو آپ سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی۔ آپ نے اس مہلک حالیہ زلزلہ کا ذکر کیا جو ۲۶ جنوری ۲۰۰۱ کو گجرات میں آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس میں تقریباً ایک لاکھ آدمی مرگئے اور کھربوں روپیہ کا نقصان ہوا۔

اس معاملہ میں سب سے زیادہ عجیب رد عمل مسلمانوں کی طرف سے سامنے آیا ہے۔ اکثر مسلمان یہ کہتے ہوئے سنائی دئے کہ یہ خدا کا قہر ہے جو بابری مسجد توڑنے والوں کے اوپر ظاہر ہوا۔ یہ طرز فکر یقینی طور پر غیر اسلامی ہے۔ خدائی قہر کا اعلان ہمیشہ خود خدا کی طرف سے کیا جاتا ہے نہ کہ کسی انسان کی طرف سے۔ اس سلسلہ میں میں یہاں دو باتیں عرض کروں گا۔ پہلی بات یہ کہ اس قسم کی آفات کو خدا کا قہر کہنا بنیادی طور پر غلط ہے۔ قرآن و حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمینی یا آسمانی آفات کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جس کو عذاب کہا گیا ہے۔ اور دوسری وہ جس کو انتباہ (warning) کہا جاتا ہے۔ عذاب کا تعلق اللہ کی ایک خاص سنت سے ہے۔ کسی قوم پر عذاب صرف اس وقت آتا ہے جب کہ وہ اتمام حجت کے باوجود، پیغمبر کی دعوت کو ماننے سے انکار کر دے۔ اس کے بعد اس کو پیغمبر کی طرف سے وارننگ دی جاتی ہے۔ اس وارننگ کے باوجود جب وہ قوم اپنا رویہ نہیں بدلتی تو اس پر خدا کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ اسی کا دوسرا نام قہر الہی ہے۔ دوسری صورت وہ ہے جب کہ تنبیہ کے طور پر کسی کو کسی مصیبت میں مبتلا کیا جائے۔ یہ معاملہ فرد کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور قوم کے ساتھ بھی۔ نیز وہ مسلمانوں کے ساتھ بھی اسی طرح پیش آسکتا ہے جس طرح وہ غیر مسلموں کے ساتھ پیش آتا ہے۔ تنبیہی آفت میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی تفریق نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page