نئی دہلی، 21مارچ2001ء دعاگو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۵
اس معاملے کا دوسرا اہم تر پہلو یہ ہے کہ کسی آفت کو دیکھ کر اہل ایمان کے اندر کیا رد عمل ہونا چاہئے ۔ یہ رد عمل سراسر غیر مومنانہ ہے کہ کوئی شخص کسی آفت کو دیکھ کر خوش ہو اور یہ کہے کہ یہ فلاں لوگوں کے اوپر قہر الہی ہے۔ اس قسم کے الفاظ بولنے کا حق کسی بھی انسان کو نہیں۔ اگر فی الواقع کوئی آفت قہر الہی ہو تب بھی اس کا اعلان صرف خدا کر سکتا ہے۔ آدمی کو سرے سے ایسا اعلان کرنے کا حق ہی نہیں۔ مزید یہ کہ خدا کی طرف سے اس قسم کا شخص اعلان پیغمبر کے زمانہ میں ہو سکتا تھا اب جب کہ کوئی پیغمبر آنے والا نہیں اس لئے ایسا اعلان بھی خدا کی طرف سے ہونے والا نہیں۔
دوسری بات یہ کہ کسی بھی آفت یا مصیبت کو دیکھ کر متقی انسان خود اپنے بارے میں کانپ اٹھتا ہے۔ مخلص انسان آفت یا مصیبت کو دیکھ کر ہمیشہ اپنے بارے میں فکر مند ہو جاتا ہے۔ آفت یا مصیبت کو دیکھ کر اس کو دوسرے کی چیز سمجھ لینا ایک بے حسی کی روش ہے۔ ایسا احساس صرف کسی ایسے سینہ میں پرورش پاسکتا ہے جو اللہ کے ڈر سے خالی ہو۔
سچا مومن دوسرے کی موت کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کرتا ہے۔ وہ دوسرے کے اوپر آنے والی مصیبت کو دیکھ کر اپنے لئے پناہ مانگنے لگتا ہے، حتی کہ ایک مومن کا گزر اگر کسی ہلاک شدہ قوم کی بستیوں سے ہو تب بھی اس کا دل پکار کر کہہ اٹھتا ہے کہ اے اللہ، ہم کو ایسے انجام سے بچا۔ اس کے علاوہ خود انسانی نقطہ نظر سے بھی یہ ایک غیر انسانی روش ہے کہ کوئی شخص دوسروں کی ہلاکت پر خوش ہو اور ان کے بارے میں غیر ہمدردانہ قسم کے ریمارک دے۔ ایک انسان جس کی فطرت زندہ ہو وہ اپنے دشمن کو بھی تکلیف کی حالت میں دیکھ کر تڑپ اٹھے گا، وہ غیروں کو بھی مصیبت میں دیکھے گا تو اس کے لئے ناممکن ہو جائے گا کہ ان کے خلاف کوئی غیر ہمدردانہ کلمہ بولے۔
واضح ہو کہ آفات کی دو قسمیں جو میں نے عرض کیں ان میں ہر ایک کی نوعیت دوسرے سے مختلف ہے۔ تنبیہی آفت اس بات کی وارننگ ہوتی ہے کہ آدمی اپنی اصلاح کرے ۔ اس کے برعکس عذاب یا قہر ہلاک کے لئے ہوتا ہے، یعنی اس لئے کہ ان لوگوں سے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues