Al-Risala · June 2001 · page 46

۴۱ مارچ، ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین

الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۶

زندگی کا حق چھین لیا جائے۔

مثلاً گجرات کے واقعہ میں وارننگ کا پہلو نمایاں ہے۔ جیسا کہ رپورٹوں سے واضح ہوتا ہے، گجرات میں غیر معمولی تباہی کا سبب یہ تھا کہ پچھلے برسوں میں وہاں کثرت سے ایسے مکانات بنائے گئے جن کو non-engineered construction کہا جاتا ہے، جب کہ موجودہ زمانہ میں ثابت شدہ طریقہ یہ ہے کہ جس مقام میں معلوم طور پر زلزلہ آنے کا امکان ہو وہاں quake resistant مکان بنائے جائیں۔ اس طرح گجرات کی آفت کے ذریعہ قدرت کی طرف سے گویا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ لوگ اپنے مکانات فن تعمیر کے اصول کے مطابق بنائیں۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کچا مکان اگر بارش کی زد میں آکر گر جائے تو وہ اس بات کا فطری پیغام ہوتا ہے کہ آئندہ وہاں پختہ قسم کا مکان بنایا جائے جو بارش کے باوجود نقصان سے محفوظ رہے۔

آخری بات یہ کہ مومن وہ ہے جو ہر چیز سے ذاتی نصیحت لے۔ مثال کے طور پر ایک مسلمان کسی بستی میں ہے۔ وہاں طوفان آتا ہے جس میں دوسروں کے کچھ مکان گر پڑتے ہیں مگر مسلمان کا مکان محفوظ رہتا ہے۔ ایسی حالت میں مسلمان اگر خوش ہو کر کہے کہ دیکھو، یہ لوگ بہت بُرے تھے، اس لئے اللہ نے ان کے مکانوں کو ڈھا دیا تو یہ بلاشبہ ایک غیر مومنانہ قول ہوگا۔ ایسے مواقع پر مومنانہ نفسیات یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں اس کے اندر ہمدردی کا جذبہ پیدا ہو اور اپنے بارے میں شکر کا۔ وہ کہے کہ خدایا، تیرا شکر ہے کہ تو نے اس موقع پر مجھ کو آفت سے بچالیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک بار سورج گرہن پڑا۔ اس کے بعد آپ نے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تم اس قسم کی کوئی چیز دیکھو تو تم ڈر کر اللہ کا ذکر کرنے لگو اور دعا کرنے لگو اور استغفار کرنے لگو۔ (مشکوۃ المصابیح ۴۶۸/۱) یہی ایسے موقع پر مومنانہ قلب کی طرف سے صحیح جواب (response) ہے۔

۴۱ مارچ، ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین

‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues

Printed page