۴۱ مارچ، ۲۰۰۱ء دعا گو وحید الدین
الرسالہ، جون ۲۰۰۱، صفحہ ۴۸
کو صدر اسلامی مرکز کا ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو توڑنے سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ افغانی طالبان کا یہ عمل سراسر اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ مگر اس سے اسلام کو کوئی نقصان نہیں۔ اس لئے کہ اس قسم کی سرگرمیوں سے اسلام نیوز میں آتا ہے۔ اور اہل اسلام کو موقع ملتا ہے کہ وہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کو میڈیا کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکیں ۔ 6 ہند ی اخبار راشٹر یہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ودود سا جد نے ۴ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ سوالات کا تعلق دو مسئلوں سے تھا۔ سماجی امن اور یکجہتی کے لئے اسلام کی رہنمائی کیا ہے۔ افغانستان میں بدھا کے مجسموں کو توڑنے کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے۔ دونوں سوالات کے بارہ میں اسلام کا نقطہ نظر تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا۔
زی نیوز (نئی دہلی) نے ۴ مارچ ۲۰۰۱ کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ ان کا سوال افغانستان میں طالبان کی بدھا کے مجسموں کو توڑنے کی کارروائی کے بارہ میں تھا۔ بتایا گیا کہ یہ اسلام کے خلاف ہے۔ افغانستان میں صحابہ کے زمانہ میں اسلام آیا۔ اس طرح صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور دوسرے علماء اسلام کے ذریعہ افغانستان میں اسلام پھیلتا رہا۔ یہ مجسمے ظہور اسلام کے پانچ سو سال پہلے سے افغانستان میں موجود ہیں۔
8 آ ل انڈیا ریڈیو نئی دہلی (اردو مجلس) کے تحت ۵ مارچ ۲۰۰۱ کو ایک پینل ڈسکشن تھا جس میں صدر اسلامی مرکز سمیت چار افراد شریک ہوئے۔ ڈسکشن کا موضوع افغانستان میں طالبان کے بدھا کے مجسموں کو توڑنا تھا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر اسلام کا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس ڈسکشن کو آر ڈی نیٹر پروفیسر اختر الواسع تھے۔
9 آ ل انڈیا ریڈیو نئی دہلی کی انگریزی سروس کے تحت ۵ مارچ ۲۰۰۱ ء کو افغانستان کے موجودہ بحران پر صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ اس انٹرویو میں بتایا گیا کہ گو تم بدھ کے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2001 All issues