Al-Risala · July 2001 · page 7

موجودہ مسلم معاشرہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۷

سے لکھی گئیں ۔ ان شارحین نے حدیث اور روایت کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی بحثیں کی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں بے حد ضروری مواد فراہم کیا ہے ۔ یہ مواد بے حد اہم ہے۔ اس سے حدیث کی مختلف جہتیں معلوم ہوتی ہیں جو حدیث کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے بلا شبہ ضروری ہیں۔

لیکن اگر بعد کے لوگ حدیث کی ان شرحوں کو حرف آخر قرار دے دیں تو پیغمبر اسلام کی احادیث پر مزید غور و فکر کا عمل رک جائے گا۔ اور یہ فکری ارتقاء کے اعتبار سے بہت بڑے نقصان کا باعث ہو گا۔ مثلاً مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے مختلف علماء نے اس کا جو مفہوم بتایا ہے اس میں حدیث کا ایک اہم پہلو بیان ہونے سے رہ گیا۔ ان مختلف اقوال کو ابن حجر العسقلانی اور دوسرے شارحین حدیث کے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے مطابق، کسی شارح نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کا سبب ملائکہ کو بتایا ہے۔ کسی نے لکھا ہے کہ آپ نے کراہت. بخور (دھونی) کے لیے ایسا کیا۔ کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایسا کیا تھا مگر اب یہ عمل منسوخ ہو چکا ہے۔ (فتح الباری ۳: ۲۱۵-۲۱۶)۔ ایک قول کے مطابق، آپ نے اس کو پسند نہیں کیا کہ یہودی کا جنازہ آپ کے سر کے اوپر سے گزرے اس لئے آپ کھڑے ہو گئے (وکره أن تعلو رأسه جنازة یهودی، فقام) حدیث کی یہ تمام شرحیں علمی اور اصولی اعتبار سے درست نہیں۔ یہ تمام شرحیں ذاتی قیاس پر مبنی ہیں نہ کہ کسی واقعی علمی دلیل پر۔ حدیث کا ظاہری متن واضح طور پر بتاتا ہے کہ آپ نے اس یہودی کو انسان کی حیثیت سے دیکھا اور بحیثیت انسان آپ اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے۔ یہ حدیث اپنے متن کے مطابق، احترام انسانیت کی ایک عظیم مثال ہے۔

اب اس معاملہ کو موجودہ زمانہ کی نسبت سے دیکھئے۔ موجودہ زمانہ میں اسلام پر جو اعتراضات کیے جاتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ اسلام کی اخلاقی تعلیمات میں احترام مسلم تو ہے مگر اس میں احترام انسانیت نہیں۔ یہ اعتراض بلا شبہ غلط ہے۔ قرآن و حدیث کے مختلف

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page