موجودہ مسلم معاشرہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۸
حوالوں سے اس کی تردید کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں بلاشبہ ایک اہم حوالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ واقعہ میں ملتا ہے۔ اس کو لے کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ اسلام میں انسان کا احترام کامل درجہ میں موجود ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہر انسان جس کو خدا نے پیدا کیا ہے وہ ہر حال میں قابلِ احترام ہے، خواہ وہ اپنے مذہب کا ہو یا غیر مذہب کا، خواہ وہ ایک قوم سے تعلق رکھتا ہو یا دوسری قوم سے، حتیٰ کہ اگر وہ بظاہر دشمن قوم کا فرد ہو تب بھی انسان کی حیثیت سے اس کا احترام کیا جائے گا۔ جب کہ مذکورہ شرح کی صورت میں اسلامی تعلیم کا یہ اہم اصول اوجھل ہو جاتا ہے۔ حالات کی رعایت صحیح البخاری میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ قریش نے بعد کو جب کعبہ کی تعمیر کی تو انہوں نے اس کو حضرت ابراہیم کی اساس پر نہیں بنایا بلکہ اس کو بدل کر بنایا (حضرت ابراہیم نے کعبہ کو لمبائی میں بنایا تھا مگر قریش نے اس کو مربع صورت میں بنا دیا۔ انہوں نے قدیم کعبہ کے ایک حصہ کو خالی چھوڑ دیا جس کو اب حطیم کہا جاتا ہے) حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں نہیں کعبہ کو دوبارہ ابراہیمی اساس پر بنا دیتے۔ رسول اللہ نے جواب دیا کہ تمہاری قوم (قریش) ابھی جلد ہی کفر کو چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوئی ہے۔ اندیشہ ہے کہ کہیں وہ اس سے بھڑک نہ جائے۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہو تا تو میں ضرور ایسا کر تا (فتح الباری امام البخاری نے یہ حدیث کتاب الحج (باب فضل مکہ وبنیا نہا)میں میں درج کی ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ امام البخاری کے قائم کردہ اس ترجمہ باب پر اکتفا کر لیں تو وہ اس حدیث سے صرف فضائل مکہ جیسے مسائل اخذ کریں گے، اس کے علاوہ اور کوئی تعلیم وہ اس حدیث میں دریافت نہ کر سکیں گے۔ حالانکہ اس حدیث میں اسلام کی ایک نہایت اہم تعلیم بیان کی گئی ہے۔ اس تعلیم کو ایک لفظ میں حکمتِ حیات سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ صحیح بات یہ تھی کہ کعبہ کی اساس کو دوبارہ حضرت ابراہیم کی اصل اساس پر قائم کیا جائے۔ اس کو مشرکین کی اساس پر چھوڑنا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues