Al-Risala · July 2001 · page 9

نفاذ احکام میں تدریج

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۹

بظاہر ایک غیر صحیح فعل تھا اس کے باوجود آپ نے اس کی تصحیح کی کوشش نہیں کی، کیوں کہ اس وقت کے حالات میں کعبہ کی تعمیر میں یہ تصحیح نئے مسائل پیدا کر سکتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ کی اس سنت سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ زندگی میں بعض اوقات ایسی صورت حال پیش آتی ہے جب کہ یہ نہ دیکھا جائے کہ کیا درست ہے(what is right) اور کیا نادرست(what is wrong)۔ بلکہ یہ دیکھا جائے کہ کیا ممکن ہے(what is possible) اور کیا ممکن نہیں ہے(what is impossible)۔

یہ بے حد اہم بات ہے، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے اس اصول کا لحاظ انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی اکثر ناکامیاں اسی لئے پیش آئیں ہیں کہ انہوں نے ممکن اور نا ممکن کے اعتبار سے معاملہ کو نہیں دیکھا بلکہ اس کو صرف درست اور نادرست کے اعتبار سے دیکھا اور پھر جو انہیں درست نظر آیا اس کی طرف وہ فوراً دوڑ پڑے۔ حالانکہ حالات کے اعتبار سے اس کا حصول ان کے لئے ممکن ہی نہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بے نتیجہ قربانیاں تمام تر اسی اصول کو ترک کرنے کا نتیجہ ہیں۔

اس مہلک انجام کا واحد سبب تقلید ہے۔ انہوں نے مذکورہ حدیث کو البخاری کے ترجمہ باب کی بنا پر صرف فضائل مکہ کے اعتبار سے دیکھا، وہ اس کو حکمتِ حیات کے اصول کے طور پر اخذ نہ کر سکے، وہ تقلید کے دائرہ میں بند ہو کر رہ گئے، وہ اجتہاد کی اگلی منزلیں طے نہ کر سکے جس کے بغیر ترقی کا سفر ممکن ہی نہیں۔

نفاذ احکام میں تدریج

صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عائشہؓ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قرآن میں پہلے جو کلام اتراوہ اس کی مفصل سور تیں تھیں، ان میں جنت اور جہنم کا ذکر تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگوں کے دل اسلام پر مطمئن ہو گئے تو اس کے بعد حلال و حرام کی آیتیں اتریں۔ اس کے بعد حضرت عائشہ کہتی ہیں: ولو نزل أول شي لا تشربوا الخمر لقالوا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues

Printed page