نفاذ احکام میں تدریج
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۱، صفحہ ۱۰
لاندع الخمر ابداً، ولو نزّل لا تزنوا لقالوا لا ندع الزنا ابداً (فتح الباری ج ۸ ص ۶۵۵) یعنی اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ شراب نہ پیو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہیں چھوڑیں گے، اور اگر پہلے ہی یہ اترتا کہ تم لوگ زنانہ کرو تو ضرور لوگ یہ کہتے کہ ہم کبھی زنا نہیں چھوڑیں گے۔
امام بخاریؒ نے اس روایت کو اپنی صحیح میں کتاب فضائل القرآن (باب تالیف القرآن) کے تحت درج کیا ہے۔ اب اگر بعد کے لوگ حضرت عائشہ کی اس روایت کا مطالعہ صرف امام بخاری کے ترجمہ باب کے تحت کریں تو وہ اس سے صرف فضائل قرآن یا تالیف قرآن کے مسائل اخذ کریں گے، اس سے زیادہ کوئی اور چیز انہیں اس روایت میں نہ مل سکے گی۔ حالانکہ اگر غور و فکر کے سفر کو بخاری کے ترجمہ باب پر روکا نہ جائے بلکہ اس کو مزید آگے جاری رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس روایت میں اسلام کا ایک نہایت اہم مسئلہ بیان ہوا ہے۔ اس روایت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ چیز جس کو تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کہا جاتا ہے، اس کے لئے ایک حکمت کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ یہ حکمت تدریجی عمل (gradual process) کی حکمت ہے۔ اسلام کے دور اول میں شرعی قانون کا نفاذ ایک تدریجی حکمت کے تحت کیا گیا۔ وہ حکمت یہ تھی کہ پہلے لوگوں کے دلوں میں اطاعت احکام کی آمادگی پیدا کی جائے، اور جب یہ داخلی آمادگی پیدا ہو جائے تو اس کے بعد خارجی احکام کا نفاذ کیا جائے۔ اس روشنی میں موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں کو دیکھا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ صحیح البخاری کی مذکورہ حدیث کو بس اس کے ترجمہ باب کے تحت پڑھتے رہے، وہ ترجمہ باب سے آگے بڑھ کر اس پر غور نہ کر سکے۔ اس تقلیدی طرزِ فکر کا نقصان یہ ہوا کہ وہ اسلام کی اس اہم حکمتِ تدریج کو سمجھنے سے قاصر رہے جو اس حدیث میں بتائی گئی تھی۔
موجودہ زمانہ میں اکثر مسلم ملکوں میں لمبی مدت سے تطبیق شریعت یا نفاذ شریعت کے نعروں کا شور سنائی دے رہا ہے۔ مثلاً مصر، پاکستان، ایران، سوڈان، افغانستان، الجزائر، انڈونیشیا،
‹ Previous page Next page › Contents of July 2001 All issues