Al-Risala · January 2001 · page 34

خصوصی شمارہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۱، صفحہ ۳۴

حالت جنگ میں ہمیشہ ایسا ہی کیا جاتا ہے۔ جہاں تک نارمل حالات میں لوگوں کے ساتھ مسلمان کے سلوک کا تعلق ہے، وہ دوسری آیتوں سے معلوم ہوتا ہے جو قرآن میں کثرت سے موجود ہیں۔ ان دوسری آیتوں میں مسلمانوں کو لوگوں کے درمیان مرحمت کے ساتھ رہنے کا حکم دیا گیا ہے (البلد ۱۷) اسی طرح حکم ہے کہ لوگوں کے ساتھ عدل کا سلوک کرو (المائدہ ۸۲) اسی طرح فرمایا کہ لین دین میں ترازو کی طرح برابری کا معاملہ کرو (الرحمن ۹) وغیرہ، وغیرہ۔ جہاں تک غیر مسلموں سے تعلق کا معاملہ ہے، قرآن میں اس کی بابت بیک بنیادی اصول مقرر کر دیا گیا ہے۔ جس سے انحراف مسلمانوں کے لئے جائز نہیں۔ وہ یہ ہے : فما استقاموا لكم فاستقيموا لهم ان الله يحب المتقين (التوبہ ۸) یعنی جب تک وہ تمہارے ساتھ مستقیم رہیں تم بھی ان کے ساتھ مستقیم رہو اور اللہ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔ بین اقوامی معاملات میں یہی مساویانہ اصول ساری دنیا کا مسلمہ اصول ہے اور اسلامی شریعت میں بھی مساویانہ سلوک کے اسی اصول کو اختیار کیا گیا ہے۔

واضح ہو کہ قرآن ایک وقت ایک واحد کتاب کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ وہ حالات کے اعتبار سے ۲۳ سال کے دوران اترا۔ ۲۳ سال کی اس مدت کو عمومی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ ایک، ۲۰ سال۔ دوسرے، ۳ سال۔ ۲۳ سالہ مدت نزول میں ۲۰ سال گویا امن کے سال تھے اور تقریباً ۳ سال جنگی حالات کے سال۔ آپ نے جن 24 آیتوں کا حوالہ دیا ہے وہ مذکورہ تقسیم کے مطابق، ۳ سال والے حالات میں اتریں۔ قرآن کی دوسری آیتیں ۲۰ سال والی مدت میں اتریں اور وہ سب کی سب امن اور انصاف اور انسانیت جیسی مثبت تعلیمات پر مشتمل ہیں۔

۲۔ مکتوب نگار نے دوسری بات جو لکھی ہے وہ حدیث پر مبنی ہے۔ انہوں نے صحیح مسلم کے انگریزی ترجمے کے کئی صفحات بھیجے ہیں۔ ان میں ایک حدیث وہ ہے جو صحیح مسلم (کتاب الایمان، کتاب الزکاة) میں آئی ہے۔ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں : من مات لا يشرك بالله شيئا دخل الجنة فقلت یا جبریل و إن سرق و إن زنی... قال نعم وإن شرب الخمر (جو اس

‹ Previous page Next page › Contents of January 2001 All issues

Printed page